حضور ﷺ کے لئے شاہد و شہید کے الفاظ جو قرآن مجید میں ارشاد ہوئے ہیں ان کے معنیٰ وہی ہیں جو دلائل کے ساتھ بیان کئے جا چکے ہیں۔ وہ تمام دلائل میرے مرادی معنیٰ کے ثبوت کے لئے کافی و وافی ہیں۔ چنانچہ ان کا اجمالی تذکرہ پھر کئے دیتا ہوں کہ
۱: حضور ﷺ اصل کائنات اور اول مخلوقات ہیں۔
اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ (مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۱) اور یہ حدیث جابر ص سے ثابت ہے۔(مواہب اللدنیہ جلد ۱ ص ۹)
۲: پھر یہ کہ اشعۃ اللمعات اور دیگر کتب معتبرہ سے نقل کر چکا ہوں کہ حقیقت
محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام ذواتِ عالم میں جاری و ساری ہے۔
۳: علاوہ ازیں حضور سید عالم کا خواب میں زیارت کرنے والے مومنین کے لئے بیداری میں جمال جہاں آراء کے دیدار سے مشرف ہونے کا وعدہ متفق علیہ حدیث میں وارد ہے اور نقول کثیرہ سے اولیاء و عرفاء کے لئے اس کا وقوع بھی ثابت ہے اور بعد الوفاۃ امکنہ متعددہ میں تشریف فرما ہو کر امت کی رہنمائی و دستگیری فرمانا بھی ثابت ہے۔
۴: اس کے بعد دنیا و مافیہاکو کف ِ دست کی طرح دیکھنا بھی حضور ﷺ کے لئے حدیث صحیح میں وارد ہے جیسا کہ کنز العمال میں ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ قَدْ رَفَعَ لِیَ الدُّنْیَافَاَنَا اَنْظُرُ اِلَیْہَا وَاِلیٰ مَاہُوَ کَائِنٌ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلیٰ کَفِّیْ ھٰذَا اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃ
۵: اور وَیَکُوْنُ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا کی تفسیر میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر فتح العزیز ص ۵۱۸ کی یہ مشہور عبارت بھی آپ کے سامنے ہے یعنی
’’وباشد رسولِ شما برشما گواہ زیرا کہ او مطلع است بنورِ نبوت بر مرتبہ ہرمتدین بدیں طور کہ درکدام درجہ از دینِ من رسیدہ و حقیقت ِ ایمان او چیست و حجابے کہ بداں از ترقی محجوب ماندہ است کدام است پس اومی شناسد گناہانِ شمارا و درجات ایمانِ شمارا و اعمالِ نیک و بد شمارا و اخلاص و نفاقِ شمارا۔‘‘
۶:
’’یَا اَ یُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْـنٰـکَ شَاہِدًا‘‘ کی تفسیر میں مفسرین کی تصریحات پیش کر چکا ہوں کہ حضور کا شاہد ہونا ان تمام مخلوقات پر ہے جن کی طرف حضور رسول بن کر مبعوث ہوئے ہیں۔ علیٰ من ارسلت الیہم جیسی عبارات کثیرہ تفاسیر معتبرہ سے نقل کر چکا ہوں۔ یہ تمام دلائل ایک منصف مزاج کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا حاضر و ناظر ہونا عام ہے۔ اگر اسی قسم کے دلائل حضور ﷺ کی امت کے حق میں آپ قائم کر دیں تو میں تسلیم کر لوں گا کہ ’’شُہَدَا ئَ عَلَی النَّاسِ‘‘ اور آپ کی باقی پیش کردہ تمام آیات جن میں لفظِ شاہد و شہیدوارد ہے، ان سب کے وہی معنیٰ ہیں جو نبی ﷺ کے حق میں وارد شدہ شاہد و شہید کے مرادی معنیٰ ہیں۔ جب تک غیر نبی کے حق میں آپ اسی قسم کے دلائل قائم نہ کریں اس وقت تک آپ کا معارضہ تمام نہیں ہو سکتا۔
تمام تفاسیر معتبرہ میں اس مضمون کی تصریح موجود ہے کہ
’’شُہَدَا ئَ عَلَی النَّاسِ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ حضور ﷺ کی امت کے عادل لوگ قیامت کے دن پچھلی امتوں پر اس امر کی گواہی دیں گے کہ انبیاء علیہم السلام نے ان تمام احکاماتِ الٰہیہ کی تبلیغ فرما دی۔ وہ امتیں اعتراض کریں گی کہ یہ ہمارے زمانے میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے حاضر و ناظر نہ تھے تو ان کو ہمارے خلاف گواہی دینے کا کیا حق ہے؟ اس اعتراض کے جواب میں امت محمدیہ یہ نہ کہے گی کہ شہید کے معنیٰ حاضر و ناظر نہیں بلکہ ان کے اس اعتراض کا یہ جواب دے گی کہ تبلیغ انبیاء علیہم السلام کا یقینی علم ہی ہم کو نبی کریم ﷺ کے ذریعہ حاصل ہوا ہے جو ہمارے مشاہدہ سے زیادہ یقینی ہے۔ اس لئے ہم گواہی کے اہل ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو حضور کی امت پر شاہد بنائے گا اور حضور ﷺ اپنے غلاموں کا تزکیہ فرماتے ہوئے ان کے تمام افعال و اعمال ایمان و اعتقادیات ظواہر و بواطن کی گواہی دیں گے۔
جب مفسرین نے حضور کے شہید ہونے اور امت کے شہید ہونے کے ایک معنی مراد نہیں لئے بلکہ دونوں معنیٰ کی جداگانہ تفسیر فرما دی تو کسی اور کو کیا حق حاصل ہے کہ تصریحات مفسرین کے خلاف دونوں کی شہادت کو یکساں قرار دیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کا ’’حضور مع المشاہدہ‘‘ بلا تاویل ہے اور حضور کی امت کا ’’حضور مع المشاہدہ‘‘ بتاویل علم یقینی ہے اور یہ تاویل ایسی نہیں جو میں نے بلا دلیل پیش کی ہو بلکہ مفسرین کی تصریحات کے حوالہ سے عرض کی ہے۔
اس تمام گفتگو کے بعد میں عرض کروں گا کہ اگر معترض کے معارضہ کے جواب میں یہ گزارش کروں کہ ’’حضور مع المشاہدہ‘‘ کا جو کمال حضور ﷺ کے لئے کتاب و سنت کی روشنی میں ثابت ہو چکا ہے۔ اگر حضور ﷺ کی اتباع میں کاملین میں ’’علی سبیل التبعیۃ‘‘ اس کمال کا پایا جانا کمالِ محمدی کی دلیل ہو گی جو میرے دعویٰ کی مزید مؤید قرار پائے گی۔ معارضہ تو اس وقت ہو جب کہ میرے دعویٰ کے خلاف کوئی چیز مجھ پر لازم آئے۔ جب کاملین کا یہ کمال کمالِ مصطفوی کی دلیل بلکہ عین کمال محمدی (ﷺ) قرار پایا تو میرا یہ دعویٰ اور بھی مستحکم ہو گیا اور اس چیز کو معارضہ قرار دینا انتہائے تسامح یا کمالِ قلت ِ تدبر کی روشن دلیل ہو گا۔
میرے اس قول کی تائید میں مسلم بین الفریقین علماء کی بہت سی چمکتی ہوئی عبارتیں موجود ہیں جن میں سے چند مختصر نقول پیش خدمت کرتا ہوں، ملاحظہ فرمایئے۔ روح البیان جلد ۱ ص ۹۹ پر ہے
قال الغزالی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ والرسول لہ الخیار فی طواف العالم مع ارواح الصحابۃ ث لقد راٰہ کثیر من الاولیاء
اخبار الاخیارشیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ص ۱۵ پر حضرت غوث الاعظم ص کا قول منقول ہے
’’بعزت پروردگار کہ نیک بختاں و بد بختاں ہمہ عرض کردہ می شوند برمن و نظر من درلوح محفوظ است منم غوّاص دریائے علم و مشاہدہ الٰہی من حجت ِ خداوندم برتمامۂ شما و نائب ِ رسول اللہ و وارثِ اویم‘‘ انتہیٰ
کبریت ِ احمر ص ۱۶۵۔
واما شیخناسیدی علی الخواص فسمعتہ یقول لا یکمل الرجل عند ناحتی یعلم حرکات مریدہ فی انتقالہٖ فی الاصلاب وھو نطفۃ من الیوم الست بربکم الیٰ استقر ارہ فی الجنہ او النار واللّٰہ تعالیٰ اعلم
اس کے علاوہ اولیائِ کاملین کے بیک وقت امکنہ متعددہ میں موجود ہونے اور تصرف کرنے پر بعض عبارات منقول ہو چکی ہیں۔ ان سب کا مفاد یہ ہے کہ کاملین امت کا آنِ واحد میں امکنہ متعددہ میں موجود ہو جانا ذراتِ کائنات کو دیکھ لینا اور اکوانِ عالم کا مشاہدہ فرمانا ایک ایسا کمال ہے جو حضور ﷺ کی اتباع میں ان حضرات کو حاصل ہے اور درحقیقت یہ کمال حضور ہی کا ہے جو ان حضرات کے آئینہ قلوب میں ظاہر ہو۔ بناء بریں معارضہ ٔ مذکورہ ہی نہیں جس کے جواب کی طرف توجہ کی جائے۔
نیز یہ اعتراض کہ مفسرین کے کلام میں تحت آیۂ کریمہ
’’شاہدا علیٰ من ارسلت الیہم‘‘ میں اپنی اصل پر نہیں بلکہ عام مخصوص البعض ہے اور اگر اس کے اصل پر ہونے کا دعویٰ ہے تو اس پر دلیل قائم کیجئے۔
سبحان اللّٰہ! اعتراض کتنا معقول ہے کہ اصل کو ثابت کرنے کے لئے دلیل قائم کی جائے اور مخالف خلاف اصل قول کرنے کے باوجود اقامت دلیل سے بے نیاز رہے۔ عجیب فلسفہ ہے۔ یاد رہے کہ کسی لفظ کے اصل پر ہونے کا دعویٰ محتاج دلیل نہیں ہوا کرتا۔ البتہ عدول عن الاصل کے لئے دلیل کی حاجت ہوا کرتی ہے۔ اس لئے اقامت برہان معترض کے ذمہ ہے۔ دیکھئے اصولیین تصریح فرما رہے ہیں
من وما یحتملان العموم و الخصوص و اصلہما العموم یعنی انہما فی اصل الوضع للعموم ویستعملان فی الخصوص بعارض القرائن۔ (نور الانوار ص ۶۱)
اور جب خصوص کا کوئی قرینہ نہیں تو اصل عموم ہی برقرار رہا۔
یہ کہنا کہ آیۂ کریمہ
’’یَا اَ یُّـہَـا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْـنٰـکَ شَاہِدًا‘‘ سے اس وقت تک تقریب تام نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ من ذوی العقول اور غیر ذوی العقول سب کے لئے عام ہے۔ کیوں کہ حضور شاہد ہیں من ارسلت الیہم اور من ذوی العقول کے لئے ہے۔معلوم ہوا کہ حضور صرف ذوی العقول پر شاہد ہیں اور مبعوث تمام مخلوق کی طرف ہیں جن میں ذوی العقول اور غیر ذوی العقول سب شامل ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ واقعی ’’مَنْ‘‘ ذوی العقول کے لئے ہے اور صرف غیر ذوی العقول میں اس کا استعمال نہیں ہوتا لیکن جس وقت غیر ذوی العقول میں ذوی العقول بھی شامل ہوں تو اس وقت بشمول عقلاء اس کا اطلاق غیر ذوی العقول پر بھی ہوا کرتا ہے۔
مفرداتِ امام راغب اصفہانی ص ۴۹۲ پر ہے
ومن عبارۃ عن الناطقین ولا یعبر بہٖ عن غیر الناطقین الا اذا جمع بینہم وبین غیرہم
قرآن کریم میں دو آیتیں ایسی موجود ہیں جن میں کلمہ
’’مَنْ‘‘ عقلاء اور غیر عقلاء سب کو شامل ہے۔ ملاحظہ فرمائیں
۱:
وَلَہٗ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
۲:
وَلِلّٰہِ یَسْجُدُمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
کیا عقلاء اور غیر عقلاء میں کوئی ایسا فرد ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے (اختیاری یا غیر اختیاری طور پر) نہ جھکا ہو یا اس کے لئے سجدہ ریز نہ ہوا ہو؟
تفسیر کبیر جلد ۲ ص ۷۳۳ مطبوعہ مصر میں تحت آیۂ کریمہ
وَلَہٗ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ مرقوم ہے
فہٰذا الایۃ تفیدان واجب الوجود واحد وان کل ماسواہ فانہ لا یوجد الابتکوینہ ولا یفنی الابافنائہٖ سواء کان عقلاً او نفسًا او روحًا او جسماً او جوہراً او عرضاً او فاعلاً او فعلاً و نظیر ہٰذہ الاٰیۃ فی الدلالۃ علیٰ ہٰذا المعنیٰ قولہ تعالیٰ وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
جس طرح امام فخر الدین رازی نے ان دونوں آیتوں میں کلمہ
’’مَنْ‘‘ عقلاء وغیر عقلاء کے لئے عام رکھا ہے اسی طرح ’’من ارسلت الیہم‘‘ میں کلمہ ’’مَنْ‘‘ عقلاء و غیر عقلاء سب کو شامل ہے اور ’’اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً‘‘ میں جتنے افراد ہیں من ارسلت ان سب کو حاوی ہے۔ لہٰذا ثابت ہو گیا کہ جس کی طرف آپ مبعوث ہیں اس پر آپ شاہد بھی ضرور ہیں اور حضور کی بعثت کل مخلوق کی طرف ہے، لہٰذا وہ حاضر و ناظر بھی کل مخلوق پر ہیں۔
جامع البیان کی عبارت کو ہمارے دعوے کے خلاف قرار دینا بھی غلط ہے۔ کیوں کہ صاحب جامع البیان نے حضور ﷺ کو شاہد بالوحدا نیۃ یا شاہد علیٰ احوال الناس قرار دے کر ادعائے حصر کہاں فرمایا ہے اور کس لفظ سے ماسوا مذکور کی نفی معلوم ہوتی ہے۔ جب نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر چیز پر شاہد ہیں تو احوال الناس حضور کی شہادت سے کب مستثنیٰ رہ سکتے ہیں بلکہ اس حساب سے تو حضور کی شاہدیت کی تعمیم ظاہرہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ پہلی عبارات میں تو حضور کا تمام مخلوق پر شاہد ہونا ثابت ہوا تھا۔ یہاں اللہ کی وحدانیت پر بھی حضور کی شاہدیت ثابت ہو گئی۔ اب آپ ہی بتائیں کہ عبارت سے معترض کو کیا فائدہ پہنچا۔
رہا یہ اعتراض کہ عقائد کتاب و سنت سے ثابت ہوتے ہیں نہ کہ کشف و الہام سے، اس کے جواب میں گزارش ہے کہ اولیاء اللہ کے کشف و الہام کو مطلقاً نظر انداز کر دینا کسی طرح جائز نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کشف و الہام سے آیاتِ محکمات و دلائل قطعیہ کی طرح علم یقینی حاصل نہیں ہوتا لیکن اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ کشف و الہام دلیل ظنی بھی نہیں۔ حدیث شریف میں ہے
اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ(ترمذی جلد ۲ سورۃ الحجر کتاب التفسیر ص ۱۴۰)
صاحب نبراس اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں
وضع بعض المحدثین والحق انہ صحیح(نبراس ص ۱۰۸ مطبوعہ خضر مجتبائی ملتان)
یہی صاحب نبراس اسباب علم کے حصر پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’وثالثا بان الفراسۃ ظنیۃ وکلا منافی الیقین‘‘ معلوم ہوا کہ کشف والہام دلائل ظنیہ میں سے ہیں۔ اگر دلائل ظنیہ کو آپ مسائل ظنیہ میں حجت نہیں مانیں گے تو قیاسات مجتہدین بلکہ اخبارِ احاد کو بھی ساقط الاعتبار قرار دینا پڑے گا جو اہل علم کے نزدیک صحیح نہیں۔ حاضر و ناظر کا مسئلہ قطعیات سے نہیں بلکہ بابِ فضائل سے متعلق ہے اس لئے اس کے ثبوت میں دلائل ظنیہ قابل احتجاج ہیں۔ علاوہ ازیں یہ کہ میں نے صرف وہ نقول ہی پیش نہیں کی تھیں بلکہ میرا اصل استدلال کتاب و سنت ہی سے ہے، جس کی تائید میں عباراتِ منقولہ پیش کی گئی ہیں۔ لہٰذا یہ اعتراض بھی بے بنیاد ہے۔
نیز یہ اعتراض کہ رسول اللہ ﷺ کے اجساد مثالیہ ثابت کرنا حضور کی بے مثلی کا انکار کرنا ہے۔ کیوں کہ اجسادِ مثالیہ کو تسلیم کرنے سے لاتعداد و لا تحصیٰ امثال حضورکے لئے ماننا پڑیں گے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مثل کے لئے مغائرت شرط ہے جو چیز کسی کی مثل ہو ضروری ہے کہ وہ اس چیز کا غیر بھی ہو لیکن اجسادِ مثالیہ رسول اللہ ﷺ کا غیر نہیں۔ اس لئے ان کو مثل کہنا بھی غلط ہے۔
اگر یہ مسئلہ اس طرح نہ سمجھا جا سکے تو یوں سمجھ لیجئے کہ قرآن مجید کے متعلق ہمارا ایمان ہے کہ وہ بے مثل کتاب ہے۔ قرآن کریم نے علی الاعلان فرمایا
فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ اب اگر کوئی منکر قرآن آپ سے کہے کہ آپ کوئی سورت پڑھیئے میں اس کا مثل پیش کرتا ہوں آپ نے سورئہ کوثر پڑھی اور اس نے بھی آپ کے سامنے اسی سورت کو پڑھ دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ میں نے جو کچھ پڑھا ہے وہ آپ کی قرأت کے بعد پڑھا ہے اگر پڑھی ہوئی سورۃ بعینہٖ وہی ہے جو آپ نے پڑھی تھی تو لازم آتا ہے کہ ایک شے اپنی ذات سے مؤخر ہو جائے اور یہ محال ہے۔ لہٰذا آپ کو ماننا پڑے گا کہ میں نے جو سورۃ پڑھی وہ آپ کی پڑھی ہوئی سورت نہیں تو کیا آپ اس کے معارضہ کو صحیح تسلیم کر لیں گے؟ نہیں اور یقینا نہیں! پس جس طرح قرآنِ کریم کی ایک سورت لا تعد ولاتحصیٰ قرأتوں میں ظاہر ہونے سے ایک دوسرے کی غیر اور اس کی مثل قرار نہیں پا سکتی، اسی طرح متعدد اور بے شمار اجسادِ مثالیہ میں ذات پاک مصطفیٰ ﷺ کے ظہور فرمانے سے کوئی جسد مثالی آپ کا غیر نہیں ہو سکتا اور قرآنِ کریم متعدد صحیفوں کی شکل میں پایا جاتا ہے لیکن پھر وہ ایک ہی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ متعدد قرآن کریم آپس میںایک دوسرے کا غیر قرار پا کر سب قرآن منزل من اللہ کے امثال ہو جائیں اور اس طرح قرآن کی بے مثلی کا دعویٰ نعوذ باللہ باطل ہو جائے بلکہ وہ تمام قرآنِ مجید خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں عین قرآن منزل من اللہ ہیں اور ان کو کثیر یا متعدد کہنا محض ظاہر کے اعتبار سے ہے۔ حقیقتاً قرآن ایک ہے۔ بالکل اسی طرح کثیر اجسادِ مثالیہ ذاتِ پاکِ مصطفیٰ ا کے امثال و نظائر ہیں۔
اور یہ اعتراض کہ اگر رسول اللہ ﷺ کا بعد الوفاۃ بیداری میں نظر آنا اور امکنہ متعددہ میں بیک وقت تشریف فرما ہونا ممکن ہے تو کیا یہ تشریف آوری اختلافات امت کے موقع پر نہ ہوتی۔ خصوصاً صحابہ کرام کے زمانہ میں جو شدید اختلافات ہوئے پھر ائمہ مجتہدین کے مابین مسائل فقہ میں اختلاف رہا۔ اس کے علاوہ بکثرت مواقع ایسے ظاہر ہوئے جن میں تشریف آوری اور امت کی رہنمائی اشد ضروری تھی لیکن عہد صحابہ وغیرہ میں کبھی حضور ﷺ یقظۃً ظاہر نہ ہوئے۔ لہٰذا یہ سب صوفیوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔
بجائے اس کے کہ اس اعتراض کا جواب میں اپنے لفظوں میں دوں مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ اعتراض اور اس کا جواب تفسیر روح المعانی سے نقل کردوں تاکہ زیادہ رد و قدح کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ سنیئے روح المعانی پارہ ۲۲ ص ۳۷ مطبوعہ مصر میں ہے
والحاصل انہ لم یبلغنا ظہورہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لاحد من اصحابہٖ واہل بیتہٖ وہم مع احتیاجہم الشدید لذٰلک وظہورہ عند باب مسجد قبا کما یحکیہ بعض الشیعۃ افتراء محض وبہت بحت وبالجملۃ عدم ظہورہ لاولٰئک الکرام وظہورہ لمن بعدہم مما یحتاج الیٰ توجیہ یقنع بہ ذوالافہام ولا یحسن منی ان اقول کل ما یحکی عن الصوفیۃ من ذٰلک کذب لا اصل لہ لکثرۃ حاکیہ وجلالۃ مدعیہ وکذالایحسن منی ان اقول انہم انما رأ وا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم منا ما فظنوا ذٰلک لخفۃ النوم وقلۃ وقت یقظۃ فقالوا رأینا یقظۃ لما فیہ من البعد ولعل فی کلامہم ما یأباہ وغایۃ ما اقول ان تلک الرؤیۃ عن خوارق العادۃ کسائر کرامات الاولیاء ومعجزات الانبیاء علیہم السلام وکانت الخوارق فی الصدر الاول لقرب العہد بشمس الرسالۃ قلیلۃ جدا وانی یری النجم تحت الشعاء او یظھرکو کبا وقد انتشر ضوء الشمس فی البقاع فیمکن ان یکون قد وقع ذٰلک لبعضہم علی سبیل الندرۃ ولم تقتض المصلحۃ افشاء ہ ویمکن ان یقال انہ لم یقع لحکمۃ الابتلاء او لخوف الفتنۃ اولان فی القوم من ہو کالمرأۃ لہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم او لیہرع الناس الیٰ کتاب اللّٰہ تعالیٰ وسنتہٖ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیما یہمہم فیتسع باب الاجتہاد وتنشر الشریعۃوتعظم الحجۃ التی یمکن ان یعقلہا کل احدا ولنحوذٰلک وربما یدعی انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ظہر ولکن کان مستترا فی ظہورہ کما روی ان بعض الصحابۃ احب ان یری رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فجاء الیٰ میمونۃ رضی اللّٰہ عنہا فاخرجت لہ مرأتہ فنظر فیہا فرأی صورۃ رسول اللّٰہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ولم یری صورۃ نفسہ فہذا کالظہور الذی یدعیہ الصوفیۃ الا انہ بحجاب المرأۃ ولیس من باب التخیل ۱ھ
اور سارے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں آج تک کسی صحابی اور کسی اہل بیت کے لئے رسول اللہ ﷺ کے ظہور فرمانے کی خبر نہیں پہنچی حالانکہ وہ اہل بیت اور صحابہ تھے اور انہیں حضور کے ظہور فرمانے کی حاجت بھی نہایت شدید تھی۔
اور وہ جو بعض شیعوں نے مسجد قبا کے دروازہ کے نزدیک حضور ﷺ کے ظاہر ہونے کو نقل کیا ہے، خالص بہتان اور افتراء محض ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ اور اہل بیت جیسے بزرگوں کے لئے حضور ﷺکا ظاہر نہ ہونا اور ان کے بعد والوں کے لئے ظہور فرمانا اس قبیل سے ہے، جس کی ایسی توجیہہ ضروری ہے جس سے اہل فہم حضرات کو قناعت حاصل ہو جائے اور مجھے یہ بات کسی طرح زیب نہیں دیتی کہ میں یہ کہہ دوں کہ وہ تمام واقعات جو حضور ﷺ کے ظاہر و باہر تشریف لانے کے متعلق صوفیائے کرام سے منقول ہیں وہ نعوذ باللہ سب کے سب جھوٹ ہیں۔ ان کی کوئی اصل نہیں۔ یہ بات اس لئے زیب نہیں دیتی کہ ان واقعات کی حکایت اور دعویٰ کرنے والے اتنے کثیر اور جلیل القدر حضرات ہیں جن کے متعلق اس قسم کی سؤظنی کسی طرح ممکن نہیں اور اسی طرح مجھے یہ بات بھی گوارا نہیں کہ میں یہ کہہ دوں کہ جن حضرات نے رسول اللہ ﷺ کو ظاہر و باہر دیکھا شاید انہوں نے حضور کو خواب میں دیکھا اور وقت کی قلت اور نیند کی خفت کی وجہ سے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے بیداری میں حضور ﷺ کی زیارت کی ہے۔ یہ بات اس لئے گوارہ نہیں کہ یہ بہت ہی بعید ہے اور غالباً ان حضرات کا کلام بھی اس تاویل سے صاف انکار کرتا ہے۔
(اس اشکال کے حل میں) میری غایت گفتگو یہ ہے کہ یہ رؤیت جو صوفیاء کے لئے واقع ہوئی یہ معجزاتِ انبیاء اور کراماتِ اولیاء کی طرح خوارقِ عادت سے ہے اور خوارقِ عادت کا ظہور صدر اول یعنی صحابہ کرام کے زمانہ میں آفتاب رسالت کے قرب زمانہ کی وجہ سے بہت ہی قلیل تھا او رحقیقت یہ ہے کہ آفتاب کی شعاعوں میں ستارے کب نظر آسکتے ہیں اور جب آفتاب ِ عالمتاب کی شعاعیں میدانوں میں پھیلی ہوئی ہوں تو کوئی ستارہ کس طرح ظاہر ہو سکتا ہے۔ تو ممکن ہے کہ حضور ﷺ کا ظہور بعض صحابہ کرام کے لئے نادر طور پر واقع ہی نہ ہوا ہو اور بہ تقاضائے مصلحت اس کا اظہار نہ کیا گیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صحابہ کرام کی آزمائش کی حکمت یا خوف فتنہ کی وجہ سے حضور ﷺ کا ظہور واقعی نہ ہوا ہو یا جمالِ نبوت کا ظاہر نہ ہونا اس بناء پر ہو کہ اس وقت قوم میں ایسے لوگ موجود تھے جو نبی کریم ﷺ کے آئینے کی طرح تھے (جس سے انوارِ نبوت کی شعاعیں چمکتی تھیں) یا حضور ﷺ کے ظہور نہ فرمانے کی وجہ یہ ہو کہ لوگ اپنے مہمات کو حل کرنے کے لئے کتاب و سنت کی طرف متوجہ رہیں اور اجتہاد کا دروازہ فراخ ہو جائے اور شریعت مطہرہ پھیل جائے اور اس حجت شرعیہ کی عظمت قائم ہو جائے جسے ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے (اگر نبی کریم ﷺ ہر موقع پر ظاہر ہو کر تمام امور میں خود ہی راہنمائی فرماتے رہتے تو امت مسلمہ کتاب و سنت کی طرف بالکل متوجہ نہ ہوتی اور شریعت مطہرہ ہرگز نہ پھیلتی اور کتاب و سنت میں اجتہاد کی کوئی ضرورت نہ رہتی اور اس طرح تمام شریعت اسلامیہ اور دین متین بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتا) یا اس کے علاوہ اس قسم کی دوسری حکمتوں پر عدم ظہور مبنی ہے۔
اور بسا اوقات حضور ﷺ کے ظہور کا دعویٰ بھی کیا جا سکتا ہے یعنی کہا جا سکتا ہے کہ صدر اول میں نبی کریم ﷺ نے ظہور فرمایا لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (مذکور حکمتوں کی بناء پر) اپنے ظہور میں بھی ایک گونہ پردہ پوشی کی شان میں رہے۔ جیسا کہ مروی ہے کہ کسی صحابی کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ میں حضور ﷺ کا جمالِ جہاں آراء دیکھوں۔ وہ صحابی ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حاضر ہوئے۔ حضرت ام المومنین نے اس صحابی کے سامنے حضور ﷺ کا آئینہ مبارک نکال کر رکھ دیا۔ اس صحابی نے جب اس آئینہ میں نظر کی تو اسے اپنی صورت بالکل نظر نہ آئی بلکہ اپنی شکل کی بجائے اس نے رسول کریم ﷺ کی مبارک صورت کو دیکھا۔ پس یہ رویت اسی ظہور کی طرح ہے جس کا صوفیائے کرام دعویٰ کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ صوفیائے کرام کے لئے حضور ﷺ کا ظہور بالکل بے حجاب ہے اور یہ ظہور آئینہ کے پردہ میں ہے اور اس آئینہ کے ظہور کو محض خیالی صورت قرار دینا بالکل لغو ہے۔ جیسا کہ ابن خلدون نے گمان کیا ہے بلکہ یہ صورت مبارکہ جو صحابی نے آئینہ میں دیکھی حضور ﷺ کی اصلی صورتِ مبارکہ تھی۔
 

پچھلا صفحہ                        اگلا صفحہ

ہوم پیج