اب معترض
کو واضح ہو گیا کہ یہ اعتراض اہل علم کی نگاہوں میں کیا وقعت رکھتا ہے۔ نیز حاضر و
ناظر کے مسئلہ پر میں نے شیخ اجل حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا
ایک قول ان کے مکتوبات سے نقل کیا ہے کہ باوجود کثرتِ اختلافاتِ امت محمدیہ (علیٰ
صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ) کے ایک فرد نے بھی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کیا کہ نبی
کریم ﷺ بغیر شائبہ مجاز اور بلا توہم تاویل حقیقت حیات کے ساتھ دائم و باقی اور
اعمالِ امت پر حاضر و ناظر ہیں۔ اس قول پر اعتراض کرنے والے کی جرأت بھی قابل داد
ہے کہ بقول حضرت شاہ صاحب حضور ﷺ کا امتی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کر سکتا۔ اب
معترض کو اپنے امتی ہونے کی خیر منانی چاہئے۔
یہ صحیح ہے کہ حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے تک حاضر و ناظر
کے مسئلہ میں امت محمدیہ کے کسی ایک فرد نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ شاہ صاحب کے زمانے
کے بعد کسی کا اختلاف شاہ صاحب کے قول کو باطل نہیں کر سکتا بلکہ اختلاف کرنے والے
کے امتی ہونے کا بطلان کر سکتا ہے۔
اور یہ اعتراض کہ شاہ صاحب تو صرف امت کے اعمال پر حضور ﷺ کو حاضر و ناظر مان رہے
ہیں اور آپ تمام کائنات پر حضور کو حاضر و ناظر سمجھتے ہیں تو اس کے جواب میں
مخلصانہ گزارش ہے کہ اگر حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو آپ اپنے
مسلم بزرگوں میں شمار کرتے ہیں تو صرف اتنا ہی مان لیں کہ حضور ﷺ اعمالِ امت پر
حاضر و ناظر ہیں۔ صرف اتنے سے اقرار پر یہ مسئلہ طے ہو جاتا ہے۔
سنیئے کہ اگر امت کو امت اجابت اور امت دعوت دونوں کے لئے عام رکھا جائے اور ابتدا
سے انتہا تک تمام کائنات کے احوال کو نگاہِ رسالت پر منکشف مانا جائے جیسا کہ حضرت
شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ خود تصریح فرما رہے ہیں تو اس میں کون سا
استحالہ لازم آتا ہے؟ دیکھئے مدارج النبوۃ جلد ۱ میں ہے
’’ہرچہ در دنیا است از زمانِ
آدم تا نفخۂ اولیٰ بروے صلی اللہ علیہ وسلم منکشف ساختند تا ہمہ احوالِ اور ا
ازاول تا آخر معلوم گردید‘‘
یعنی آدم علیہ السلام کے زمانے سے نفخۂ اولیٰ تک جو کچھ
دنیا میں ہے سب ہمارے نبی ﷺ پر منکشف فرما دیا۔ یہاں تک کہ اول سے آخر تک تمام
احوال حضور ﷺ کو معلوم ہو گئے اور حضور ﷺ نے اپنے اصحاب کو ان میں سے بعض کی خبر دی۔
یہ مضمون حدیث طبرانی سے بھی نقل کیا جا چکا ہے۔ خود حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اِنَّ اللّٰہَ قَدْ رَفَعَ
لِیَ الدُّنْیَا وَاَنَا اَنْظُرُ اِلَیْہَا وَاِلیٰ مَاہُوَ کَائِنٌ فِیْہَا۔‘‘
(الحدیث) پھر اس پر بھی غور فرمائیں کہ یہی شاہ عبد الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ حقیقت
محمدیہ کو ذراتِ کائنات میں جاری و ساری کر چکے ہیں۔ جیسا کہ اشعۃ اللمعات سے نقل
ہو چکا ہے۔ الغرض دلائل شرعیہ اور خود حضرت شاہ عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی
تصریحات اس امر پر شاہد ہیں کہ حضور ﷺ تمام احوالِ کائنات پر حاضر و ناظر ہیں،
وللّٰہ الحمد!
اس مضمون کی مزید وضاحت کے لئے مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۷۸۷ مطبوعہ نول کشور سے ایک
اور عبارت نقل کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمایئے
’’بدانکہ وے صلی اللہ علیہ
وسلم می بیند ومی شنود کلام ترازیرا کہ وے متصف است بصفات اللہ تعالیٰ ویکے از صفات
الٰہی آن ست کہ اَنَا جَلِیْسُ مَنْ ذَکَرَنِیْ مر پیغمبر را صلی اللہ علیہ وسلم
نصیب ِ وافر است ازیں صفت۔‘‘
یعنی اے مخاطب! جاننا چاہئے کہ نبی کریم ﷺ تجھے دیکھتے ہیں اور تیرا کلام سنتے ہیں
اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے متصف ہیں اور صفاتِ الٰہیہ میں سے ایک
صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حدیث قدسی میں فرماتا ہے کہ جو مجھے یاد کرے میں اس کا ہم
نشیں ہوں اور حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے پورا پورا
حصہ ملا ہے۔ لہٰذا حضور بھی اپنے یاد کرنے والے کے ہم نشیں ہیں۔
اس کے بعد حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی آخری وصیت بھی سن لیجئے۔ فرماتے ہیں
’’وصیت می کنم ترا اے برادر
بدوام ملاحظہ صورت و معنی او اگرچہ باشی باو متکلف و مستحضر پس نزدیک است کہ الفت
گیر دروحِ تو بوے پس حاضر آید ترا وے صلی اللہ علیہ وسلم عیاناً ویابی اورا حدیث
کنی باوے وجواب دہدترا وے و حدیث گوید با تو و خطاب کند ترا، پس فائز شوی بدرجہ
صحابہ عظام و لاحق شوی بہ ایشاں انشاء اللہ تعالیٰ۔‘‘
مطبوعہ نول کشور (مدرج النبوۃ جلد ۲ ص ۷۸۹)
ترجمہ: اے بھائی میں تجھے وصیت کرتا ہوںکہ تو ہمیشہ حضور ﷺ کی صورت و معنی کا
ملاحظہ یعنی تصور کرتا رہے اگرچہ اس تصور میں تجھے تکلف بھی کرنا پڑے۔ تیری روح بہت
جلد حضور ﷺ سے مانوس ہو جائے گی اور حضور ﷺ تیرے سامنے ظاہر و باہر رونق افروز ہوں
گے تو حضور کو پائے گا اور حضور سے باتیں کرے گا۔ حضور ﷺ تجھے جواب دیں گے اور تجھ
سے گفتگو اور خطاب فرمائیں گے۔ پس تو صحابہ کرام کے درجہ پر فائز اور انشاء اللہ ان
سے لاحق ہو گا۔
یعنی صحابیت کا ظاہر حکم نہیں بلکہ یہ درجہ تجھے نصیب ہو گا۔ سبحان اللہ! حضرت شاہ
صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حاضر و ناظر کے مسئلے کو کس قدر واضح فرما دیا۔ وَلِلّٰہِ
الحجۃ الباہرہ۔
حاضر و ناظر کے مسئلے پر یہ اعتراض کہ اگر حضور ﷺ کو تمام ذراتِ کائنات پر حاضر
ناظر مانا جائے تو ہر ناپاک، نجس، گندی، خبیث،بری اور حرام چیزوں پر بھی حضور ﷺ
حاضر و ناظر ہوں گے اور حقیقت محمدیہ کے جلوے ان میں بھی پائے جائیں گے۔ بتائیں کہ
اس میں حضور ﷺ کی کیسی شدید توہین ہے۔
لوگ پیشاب پاخانہ کرتے ہیں، جنسی تقاضے پورے کرتے ہیں۔ ایسے شرمناک مواقع پر بھی آپ
حضور کو حاضر و ناظرسمجھیں گے۔ طبقاتِ جہنم، کفارو مشرکین، شیاطین وغیرہ میں بھی
حضور کی حقیقت کے جلوے ضرور ہوں گے۔ کیا کوئی مسلمان حضور ﷺ کے حق میں ایسا اعتقاد
رکھ سکتا ہے۔حضور کی تعظیم و توقیر کے مدعی غور کریں کہ یہ عقیدہ اس دعوے کے سراسر
خلاف اور منافی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام قباحتیں اس وقت لازم آسکتی تھیں جب کہ ہم حضور ﷺ کو
بشریت ِ مطہرہ کے ساتھ حاضر و ناظر تسلیم کرتے لیکن حضور ﷺ کو بشریت مقدسہ کے ساتھ
ہرگز حاضر و ناظر تسلیم نہیں کرتے بلکہ حضور کی نورانیت و روحانیت اور حقیقت مبارکہ
کے ساتھ حضور کو حاضر و ناظر مانتے ہیں۔
معترض نے بشریت اور حقیقت و نورانیت کو ایک سمجھ لیا ہے۔ یہ بنیادی غلطی ہے۔ عالم
شہادت اور مادیات و جسمانیات کے ضمن میں نجاست و خباثت، معصیت و قباحت وغیرہ کے جو
تصورات پیش کئے گئے ہیں اور ان کے خبیث و ناپاک اثرات کو حقیقت و نورانیت محمدیہ پر
اثر انداز قرار دیا گیا ہے، بہت بڑی غلطی ہے۔ کیوں کہ مادی اور جسمانی کیفیات
نورانی حقیقتوں پر اثر انداز نہیں ہوا کرتیں۔ آفتاب و ماہتاب کی شعاعیں بول براز پر
پڑنے سے ناپاک نہیں ہو جایا کرتیں۔ خود آپ کی اپنی نگاہیں جب کسی نجاست پر پڑتی ہیں
تو وہ ناپاک نہیں ہو تیں، ہزاروں مرتبہ آپ کی نظر ناپاک چیزوں پر پڑی ہو گی لیکن
ایک دفعہ بھی آپ نے اپنی آنکھوں کو ناپاک قرار دے کر ان کو نہیں دھویا۔ جب آنکھوں
کے نور اور آفتاب و ماہتاب کی نوری شعاعوں کو یہ نجاستیں ناپاک نہیں کر سکتیں تو
انوارِ محمدی ﷺ کی شعاعوں پر یہ مادی نجاستیں کیونکر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ حقیقت محمدیہ کے جلوے ذراتِ کائنات میں جاری و ساری ہیں جیسا کہ
متعدد کتب معتبرہ اور مسلم اکابر کی عبارات سے ظاہر ہے لیکن اس پر یہ شبہ وارد کرنا
کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا کہ خبیث اور ناپاک چیزیں حضور کے جلوؤں کو ناپاک کر دیں
گی۔ حضور کے جلوؤں کو تو ذراتِ کائنات میں نہیں مانا جاتا لیکن جلوہ ہائے قدرت کو
ہر فردِ عالم اور ذرئہ کائنات میں ضرور تسلیم کیا جاتا ہے اور قرآن کریم کی روشنی
میں اس بات کو ضرور ماننا پڑے گا کہ کائنات کے ہرذرہ میں قدرت خداوندی کے چمکتے
ہوئے نشانات پائے جاتے ہیں۔ کوئی چیز اچھی ہو یا بری، پاک ہو یا ناپاک، دنیا کی ہو
یا آخرت کی، ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی صفت و خالقیت اور اس کی قدرت کے جلوے چمک
رہے ہیں۔ ہر ذرہ اس کی قدرت کی دلیل اور ہر قطرہ اس کی حکمت کا نشان اور ہر تنکا اس
کی وحدانیت کی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّـیْـلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ
فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ
مَّائٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ
دَابَّۃٍ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ
وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ o
ترجمہ: ’’بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن کی آمدو رفت میں اور
ان کشتیوں میں جو لوگوں کے فائدہ کی چیزیں (مالِ تجارت) لے کر سمندر میں چلتی ہیں
اور بارش میں جسے اللہ تعالیٰ آسمانوں سے نازل کرتا ہے پھر اس کے ساتھ مردہ زمین کو
زندہ کرتا ہے اور ہر قسم کے جانور جو اللہ تعالیٰ نے زمین پر پھیلائے ہیں اور ہواؤں
کے اِدھر اُدھر پھرنے میں اور ان بادلوں میں جو خدا کے حکم سے زمین و آسمان کے
درمیان گھرے رہتے ہیں۔ ان سب چیزوں میں عقل رکھنے والوں کے لئے قدرتِ الٰہیہ کی بہت
سی نشانیاں موجود ہیں۔‘‘
یہ قرآنی بیان اس دعویٰ پر شاہد و عادل ہے کہ ہر ذرّہ کائنات میں اللہ کی قدرت کی
نشانیوں اور اس کی حکمت کے جلوے موجود ہیں۔ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے شاید اسی آیہ
کریمہ کے پیش نظر فرمایا ہے ؎
برگ درخشاں سبز در نظر
ہوشیار!
ہر ورقے دفتر یست معرفت کردگار!
اب بتایئے!
یہ تمام جلوہ ہائے قدرت نجس اور خبیث چیزوں کی ناپاکی اور خباثت سے متاثر ہو رہے
ہیں اور یہ نجاست و خباثت جس کا تعلق محض ایک خاص تعین اور ظاہری صورت سے ہے اللہ
تعالیٰ کی حکمت کے جلوؤں اور قدرت کی آیتوں کو نعوذ باللہ ناپاک کر رہی ہے۔ نہیں
اور ہرگز نہیں! جب خدا کے جلوؤں کو یہ چیزیں ناپاک نہیں کر سکتیں تو مظہر خدا حضرت
محمد ﷺ کے جلوؤں کو کس طرح ناپاک کر سکتی ہیں۔
جلوہ ہائے حقیقت محمدیہ کے ناپاک اور خبیث چیزوں میں پائے جانے کی وجہ سے اگر آپ یہ
اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں حضور کی توہین ہے تو ذرا اس امر پر غور فرمائیں کہ اللہ
تعالیٰ قرآنِ کریم کے پندرہویں پارے میں ارشاد فرماتا ہے۔
’’وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَہُوْنَ
تَسْبِیْحَہُمْ‘‘ اور تسبیح کے متعلق
علمائے اعلام و مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ تسبیح حقیقی ہے۔ جیسا کہ مفردات امام
راغب مطبوعہ مصر ص ۲۲۰ پر مرقوم ہے۔
’’فذلک یقتضی ان یکون تسبیحا علی
الحقیقۃ‘‘ یعنی دلائل و قرائن کا
تقاضا یہ ہے کہ آیۂ کریمہ میں تسبیح حقیقت پر محمول ہو یعنی تسبیح قولی مراد لی
جائے اور صرف امام راغب ہی نہیں بلکہ علامہ الوسی علیہ الرحمۃ تفسیر روح المعانی
پارہ ۱۵ ص ۷۹ پر تسبیح قولی حقیقی پر احادیث و آثار کثیرہ نقل فرما کر لکھتے ہیں
الیٰ مالا یکاد یحصی من
الاخبار والاٰثار وہی بمجموعہا متعاضدۃ فی الدلالۃ علیٰ ان التسبیح قال کما لا یخفیٰ
وہو مذہب الصوفیۃ
یعنی بے شمار احادیث اور آثار مجموعی قوت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آیۂ
کریمہ میں اللہ تعالیٰ جس تسبیح کا ذکر فرما رہا ہے وہ تسبیح قالی ہے۔ جیسا کہ ظاہر
ہے اور یہی صوفیہ کا مذہب ہے۔
اس کے بعد ص ۸۰ پر فرماتے ہیں
ولعل الاولیٰ فیہ ان یلتزم
التسبیح علی ماہو الاعم من الحالی والقالی ویثبت کلا النوعین لکل شیء
یعنی اولیٰ یہ ہے کہ یہاں تسبیح سے عام تسبیح مراد لی جائے جو حالی اور قالی دونوں
کو شامل ہو اور دونوں قسم کی تسبیح ہر شے کے لئے ثابت کی جائے۔
ان عبارات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہے کہ عالم کا ہر ذرہ (خواہ وہ پاک ہو
یا ناپاک، خبیث ہو یا طیب) حالی اور قالی تسبیح حقیقی میں مصروف ہے۔ اب صرف اتنی
بات غور طلب ہے کہ یہ تسبیح ناپاک اور خبیث چیزوں میں پائے جانے کی وجہ سے کہیں
ناپاک تو نہیں ہو گئی۔ اگر تسبیح خداوندی ہر ناپاک اور خبیث چیز میں پائی جا سکتی
ہے تو جلوہ ہائے حقیقت محمدیہ کا پایاجانا کیوں قابل اعتراض ہے۔
نجاست جس قسم کی ہوتی ہے اسی قسم کی اشیاء میں اثر کرتی ہے۔ دیکھئے مشرکین نجس ہیں
لیکن اگر کوئی مشرک اپنا صاف ستھرا ہاتھ پاک پانی میں ڈال دے تو وہ پانی ناپاک نہ
ہو گا حالانکہ مشرک ناپاک ہے۔ اس پانی کے ناپاک نہ ہونے کی وجہ صرف یہی ہے کہ پانی
اس عالم اجسام کی قسم سے ہے اور مشرک کی نجاست محض اعتقادی ہے۔ امور اعتقادیہ عالم
اجسام کی قسم سے نہیں، لہٰذا یہ نجاست پانی میں اپنا اثر نہیں کر سکتی بخلاف جسمانی
نجاست کے کہ وہ اشیاء جسمانیہ کو متاثر کرے گی۔
رسول اللہ ﷺ کی حقیقت عالم امر بلکہ اس سے بھی بالا تر ہے اور یہ نجاست و خباثت کے
آثار صورِ جسمانیہ سے متعلق ہیں جو عالم خلق کی چیز ہے۔ اب بتایئے کہ شرک کی
اعتقادی نجاست پانی کو ناپاک نہیں کر سکتی تو یہ نجاستیں حضور کے نور کو کس طرح
ناپاک کر سکتی ہیں۔ آفتاب و ماہتاب کی شعاع بصری اور چراغ کی روشنی رات دن نجس اور
ناپاک چیزوں پر پڑتی ہے مگر ناپاک نہیں ہوتی۔ آپ اندازہ کیجئے کہ جو نجاست مذکورہ
روشنی اور اس کی شعاعوں کو ناپاک نہیں کر سکتی وہ حضور ﷺ کے نورانی جلوؤں کو کیونکر
ناپاک کر سکے گی۔ جس طرح یہ نجاست اپنی ہی نوع کی چیزوں کو متاثر کر سکتی ہے، اسی
طرح اس کا ازالہ بھی ایسی ہم جنس اشیاء سے ہو سکتا ہے۔
اعتقادی نجاست پانی سے دور نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ تمام دنیا کے سمندر مشرک کو پاک
کرنے کے لئے صرف کر دئیے جائیں لیکن وہ پاک نہ ہو گا۔ اس کی پاکی کلمہ طیبہ کی
تصدیق پر موقوف ہے۔ اگر وہ سچے دل سے ایک مرتبہ کلمہ طیبہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھ لے تو
جو نجاست دنیا کے پانیوں سے دور نہیں ہو سکتی وہ ایک آن میں زائل ہو سکتی ہے۔ اب
اگر کوئی بے وقوف اس کلمہ طیبہ کو جسمانی نجاست کے ازالہ کے لئے استعمال کرے اور
ناپاک جسم یا نجس کپڑے پر کلمہ شریف پڑھ کر پھونکنا شروع کر دے اور یہ خیال کرے کہ
یہ کلمہ تو ایسا ہے کہ سات سمندروں سے جو چیز پاک نہ ہو سکے وہ اس سے پاک ہو جاتی
ہے۔ یہ ماشہ بھر نجاست اس کے سامنے کیا حقیقت رکھ سکتی ہے تو کیا اس بے وقوف کا
خیال صحیح ہو گا؟ یقینا نہیں، اس جسمانی نجاست کے ازالہ کے لئے بہر صورت اس کو پانی
ہی استعمال کرنا پڑے گا جو اس عالم اجسام کی چیز ہے۔ معلوم ہوا کہ عالم شہادت کی
نجاستیں اسی عالم شہادت کی اشیاء کو متاثر کر سکتی ہیں اور جو نجاستیں جسمانیت سے
الگ ہیں ان کا اثر جسمانیات پر نہیں ہو سکتا۔ پاکی اور ناپاکی کے اس فلسفے کو ذہن
میں رکھ کر اگر آپ حاضر و ناظر کے مسئلہ کو سوچیں تو کوئی الجھن آپ کے ذہن میں باقی
نہ رہے۔
مزیدوضاحت کے لئے عرض کر دوں کہ نجاست کا حکم حقیقت پر نہیں لگ سکتا۔ بول و براز کو
کھاد کی صورت میں کھیتوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اناج اور سبزیوں کے پودے انہیں اجزائے
نجاست کو جڑوں کے راستے اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور وہ تمام نجس اثرات اور ناپاک
اجزاء ان پودوں میں جذب ہونے کے بعد اناج، سبزیوں اور میوہ جات وغیرہ کی شکل میں
ظاہر ہوتے ہیں، جن کو آپ بھی پاک سمجھ کر تناول فرماتے ہیں اور یہ کبھی خیال نہیں
فرماتے کہ یہ وہی نجاستوں کے ڈھیر ہیں جن کو ایک نظر دیکھنا بھی مکروہ تھا۔ آج وہ
دسترخوان کی زینت بن کر آپ کے حلقوم شریف کی راہوں سے گزر کر شکم اقدس میں رونق
افروز ہیں۔ اگر آپ غور فرمائیں تو ان مسائل کے لئے آپ کو قرآن کی روشنی میں وہ تمام
مواد ملے گا جس کو میں نے چند لفظوں میں پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
سَنُرِیْہِمْ اٰیَاتِنَا فِی
الْاٰفَاقِ وَفِیْ اَنْفُسِہِمْ حَتیّٰ یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ ط
دیکھئے میں نے آفاق و انفس دونوں کی نشانیاں پیش کر کے آپ کو بتا دیا کہ جلوہ ہائے
نور محمدی ﷺ ان ناپاکیوں کے اثرات سے متاثر نہیں ہو سکتے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دنیا کی ناپاک اور خبیث چیزیں ہوں، جہنم کے طبقات ہوں یا کفار
و مشرکین کی ذوات، اس بات کو ماننا پڑے گا کہ ان سب چیزوں میں خدا کی شانِ جلال و
کمال اور اس کی صفت و قدرت کے کمال کے وہ نمونے پائے جاتے ہیں
جو کھلی ہوئی آیات اور روشن نشانیاں ہیں جب ان خباثت و نجاست کے اثرات جلوہ
ہائے جلال و جمالِ خداوندی پر اثر انداز نہیں ہو سکتے تو حقیقت محمدیہ کے جلوے بھی
تو جمالِ خداوندی ہی کے جلوے ہیں، ان کو یہ چیزیں کیسے متاثر کر سکتی ہیں؟
آیۂ کریمہ ’’لَا تَرْفَعُوْا
اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ‘‘
سے حاضر و ناظر کے مسئلہ پر اعتراض کرنا بھی عجیب مضحکہ خیز بات ہے۔ مسلمان کا ایک
بچہ بھی اس حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ بلند آواز سے بولنے میں اگر حضور سید
عالم ﷺ کے تکلیف پانے یا سرکار کی بے ادبی کا کوئی تصور نہ ہوسکتا ہو تو وہ رفع صوت
اس نہی قرآنی کے تحت نہیں آتا۔
حضور ﷺ کی حیاتِ ظاہری میں حضور کے سامنے ایسا رفع صوت حدیث (۱) میں وارد ہے جو
حضور ﷺ کی تاذی (تکلیف پانے) اور بے ادبی کے شائبہ سے پاک تھا۔ جب حیاتِ ظاہری میں
اس قسم کا رفع صوت ناجائز نہیں تو بعد الوفات کس طرح ناجائز ہو گا۔ یاد رکھئے جب تک
حضور ﷺ کی تاذی (تکلیف پانے) یا استہانت (بے ادبی ہونے) کا تخیل نہ رہے، اس وقت تک
حضور ﷺ کے سامنے رفع صوت ہرگز ناجائز نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر کوئی چیز اس تاذی یا
استہانت کے تخیل کا موجب ہو سکے تو ایسی صورت میں رفع صوت ناجائز ہو گا۔ مثلاً روضۂ
اطہر حضور ﷺ کے قریب ہونا، اس کے بعد دوسرے درجے میں حدیث شریف کی قرأت کا موقعہ
یا پھر اس سے بھی نیچے مرتبے میں عالم دین کی موجودگی کا ہونا رفعِ صوت کے ناجائز
ہونے کا سبب قرار پائے گا۔ کیوں کہ یہ تمام مواقع ایسے ہیں کہ جن میں حضور ﷺ کے
تکلیف پانے یا حضور ﷺ کی بے ادبی ہونے کا تخیل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جہاں اس
تخیل کا امکان نہ ہو وہاں بھی رفعِ صوت کو ناجائز کہنا دلائل شرعیہ کے خلاف ہے۔
ملاحظہ فرمایئے بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث میں ہے کہ جب آیۂ کریمہ
’’لَا تَرْفَعُوْآ اَصْوَاتَکُمْ
فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ‘‘ نازل ہوئی
تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ، جن کی آواز بہت بلند تھی،
گھر میں بیٹھ رہے۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ بارگاہِ رسالت میں کیوں حاضر نہیں
ہوتے تو انہوں نے کہا(۲)
’’وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ اَنِّیْ اَرْفَعُکُمْ صَوْتًا عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی
اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَنَا مِنْ اَہْلِ النَّارِ‘‘
’’تم جانتے ہو کہ میں تم سب میں زیادہ حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام کی آواز پر بلند آواز کرنے والا ہوں۔ اس لئے (آیۂ کریمہ کی رو سے) میں اہل
نار سے ہوں۔‘‘ حضور سیدعالم ﷺ نے اس کے جواب میں ان کے حق میں ارشاد فرمایا
’’بَلْ ہُوَ مِنْ اَہْلِ الْجَنَّۃِ‘‘
وہ اہل نار سے نہیں بلکہ اہل جنت سے ہیں۔ دیکھئے حضور ﷺ کی حیات ظاہری میں حضرت
ثابت بن قیس کا رفعِ صوت ناجائز قرار نہ پایا۔ محض اس لئے کہ وہ تخیل تاذی و
استہانت سے پاک تھا۔
اور سنئیے روح المعانی پ ۲۶ ص ۱۲۴ پر ہے
ثم ان من الجہر مالم یتنا ولہ
النہی بالاتفاق وہو ما کان منہم فی حرب او مجادلۃ معاندا و ارحاب عدو او ما اشبہ
ذلک مما منہ تاذأ وا استہانۃ ففی الحدیث انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام قال للعباس بن
عبدالمطلب لما ولی المسلمون یوم حنین ناد اصحاب السمرۃ فنادی باعلیٰ صوتہ این اصحاب
السمرۃ وکان رجلا صیتا یروی ان غارۃ اتتہم یوما فصاح العباس یا صباحاہ فاسقطت
الحوامل لشدۃ صوتہ
ترجمہ: پھر جہر (بلند آوازی) کی بعض وہ صورتیں ہیں جن کو نہی قرآنی بالاتفاق شامل
نہیں اور وہ وہ صورتیں ہیں جن میں حضور ﷺ کے تکلیف پانے یا حضور ﷺ کی بے ادبی ہونے
کا خیال تک پیدا نہ ہو سکے۔ مثلاً لڑائی یا مجادلہ یا دشمن کے ڈرانے وغیرہ کے مواقع
پر (حضور ﷺ کی موجودگی میں) آواز بلند کی جائے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب غزوئہ
حنین کے دن مسلمان میدان جہاد سے چلے گئے تو حضور ﷺ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب سے
فرمایا کہ اصحاب سمرہ یعنی بیعت الرضوان کو آواز دو تو حضرت عباس نے بڑی اونچی آواز
سے فرمایا کہاں ہیں اصحابِ سمرہ؟ اور حضرت عباس بڑے بلند آواز تھے۔ مروی ہے کہ’’
ایک دن کچھ لٹیرے آ پڑے تو حضرت عباس نے ’’یا صباحاہ‘‘ کہہ کر پکارا تو ان کی شدتِ
آواز کی وجہ سے حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہو گئے۔‘‘
روح المعانی کی بعینہٖ یہی عبارت مولوی شبیر احمد صاحب دیوبندی نے فتح الملہم جلد
اول ص ۲۷۰ پر نقل کر کے ہمارے اس جواب پرمہر تصدیق ثبت کر دی۔ وللّٰہ الحمد!
ایک آیت سورئہ آل عمران کی دو اور آیتیں سورئہ قصص کی معارضے میں پیش کی جاتی ہیں،
جن کا ماحصل ایک ہی ہے کہ آپ حضرت مریم کی کفالت کے لئے قرعہ اندازی کرنے والوں کے
پاس نہ تھے، جب کہ وہ اپنے قلم ڈالتے تھے اور آپ اہل مدین میں مقیم نہ تھے اور جب
ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی تو آپ کوہِ طور کی جانب میں نہ تھے۔ ایک یہ آیت
بھی پیش کی جاتی ہے
وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ
الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَا اِلیٰ مُوْسَی الْاَمْرَ وَمَا کُنْتَ مِنَ
الشَّاہِدِیْنَ (قصص)
ترجمہ: جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی رسالت فرمائی تو آپ جانب غربی میں نہ
تھے اور آپ شاہدین میں سے نہ تھے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ معترض کو یہ سب الجھنیں اس لئے پیش آتی ہیں کہ وہ حاضر و ناظر
کے مسئلہ میں اہل حق کے مسلک کو نہیں سمجھ سکا۔ ان آیات کا کوئی لفظ بھی حضور ﷺ کے
حاضر و ناظر ہونے کے مسئلے کا معارض نہیں، اہل سنت کا دعویٰ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ
اپنی روحانیت و نورانیت کے ساتھ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اور آیاتِ قرآنیہ کا مفاد
یہ ہے کہ اے محمد ﷺ آپ اپنی جسمانیت کے ساتھ ان مقامات پرموجود نہ تھے۔ اب آپ ہی
بتائیں کہ جسمانی طور پر موجود نہ ہونا روحانی طور پر موجود نہ ہونے کے کس طرح
معارض ہو سکتا ہے۔ آپ کی پیش کردہ آیات کی جو توجیہہ میں نے کی ہے، اس پر علامہ
صاوی آپ کی پیش کردہ سورئہ قصص کی آیات کے تحت ارقام فرماتے ہیں
وہذا بالنظر للعالم الجسمانی
لاقامۃ الحجۃ علی الخصم واما بالنظر للعالم الروحانی فہو حاضر رسالۃ کل رسول وما
وقع لہ من لدن اٰدم الیٰ ان ظہر بجسمہ الشریف ولکن لا یخاطب بہ اہل العناد
خلاصہ یہ ہے کہ ارسالِ رسل اور ان کے زمانہ رسالت کے واقعات پر محمد ﷺ کا حاضر و
ناظر و موجود نہ ہونا عالم جسمانی کے اعتبار سے ہے یعنی ان واقعات پر نبی کریم ﷺ کا
جسمانی حضور نہ تھا اور اگر عالم روحانی کے اعتبار سے نظر کی جائے تو حضور ﷺ آدم
علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر اپنے زمانہ تک ہر رسول کی رسالت اور تمام واقعات پر
حاضر ہیں۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ نے اپنی جسمانیت مطہرہ کے ساتھ ظہور فرمایا لیکن یہ
ایسی باتیں ہیں جس کے ساتھ اہل عناد کو خطاب نہیں کیا جاسکتا۔
سبحان اللہ! اس عبارت نے معترض کے استدلال کو ہباء ً منثورًا کر دیا اور اس حقیقت
کو واضح کر دیا کہ دلائل شرعیہ یا عبارات کتب معتبرہ میں جہاں بھی اس قسم کا مضمون
وارد ہے اس کے یہی معنیٰ متعین ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے جلوے روحانی طور پر عالم کے
ہرذرے میں چمک رہے ہیں۔ ؎
آنکھ والا
تیرے جلوے کا تماشہ دیکھے
دیدئہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
معترض کے
استدلال بالقرآن کی حقیقت واضح ہو چکی۔ اب اس کے استدلال بالحدیث کا جواب عرض ہے۔
معترض حاضر و ناظر کے عقیدے کے خلاف حدیث معراج سے بھی معارضہ کرتا ہے لیکن یہ بھی
درحقیقت ایک مغالطہ ہے اور اس کی وجہ بھی ہمارے مسلک کو صحیح طور پر نہ سمجھنا ہے۔
معراج جسمانیہ میں لفظ جسمانی ہی میں اعتراض موجود ہے۔ جب معراج جسمانی ہوئی تو آنا
جانا بھی جسم اقدس ہی سے متعلق ہوا۔ جہاں سے حضور چلے وہاں سے حضور کی جسمانیت
منتقل ہوئی اور جہاں پہنچے وہاں جسمانیت پہنچی۔ جہاں سے آئے جسمانیت وہاںسے روانہ
ہوئی۔ اس ضمن میں جو جگہ حضور سے خالی ہوئی وہ حضور کی نورانیت اور روحانیت سے نہیں
بلکہ حضور کی بشریت اور جسمانیت سے خالی ہوئی۔ جب ہم جسمانیت اور بشریت کے ساتھ
حضور کے حاضر و ناظر ہونے کے قائل نہیں تو حدیث معراج ہمارے دعویٰ کے کس طرح معارض
ہو سکتی ہے!
اب صرف ایک اعتراض باقی رہ گیا ہے اور وہ بھی اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہے یعنی یہ
کہ اگر حضور ﷺ حاضر و ناظر ہیں تو
’’مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ‘‘
کے کیا معنی ہوں گے اور مدینہ جانے کی کیا
ضرورت باقی رہے گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قبر شریف میں حضور ﷺ اپنی بشریت مطہرہ کے
ساتھ رونق افروز ہیں اور ظاہر ہے کہ بشریت ایک محدود چیز ہے۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کی
روحانیت اور نورانیت تمام عالم میں موجود ہے لیکن جب تک اس کی صحیح معرفت کے بعد
قرب روحانی حاصل نہ ہو اس وقت تک کوئی شخص اس روحانیت مقدسہ کے حاضر و موجود ہونے
سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اہل کمال کو تو ہر وقت حضور کا قرب نصیب ہے لیکن وہ
گنہگارانِ امت جو بشریت کی حدود سے متجاوز ہو کر عالم روحانیت تک نہیں پہنچے ان کے
لئے اگر قبر شریف کا سہارا نہ ہو تو ان کے لئے پناہ کی کون سی جگہ ہے؟ قید بشریت
والوں کے لئے ان کی بشریت مطہرہ جائے پناہ ہے اور اہل روحانیت کے لئے ان کی روح
اقدس ملجا و ماویٰ ہے۔ مختصر یہ کہ حدیث
’’مَنْ زَارَ قَبْرِیْ‘‘
میں دور افتادوں کے لئے مژدہ شفاعت ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ میں اپنی جسمانیت
مقدسہ کے ساتھ قبر انور میں زندہ رونق افروز ہوں۔ جس طرح میری حیات ظاہری میں میری
بارگاہ میں حاضر ہونے والا کبھی محروم نہیں ہوا، بالکل اسی طرح بعد الوصال بھی میرا
فیض جاری ہے۔ یہ کس لفظ کا ترجمہ ہے کہ میں حاضر و ناظر نہیں۔ بشریت مقدسہ کے ایک
جگہ رونق افروز ہونے سے حاضر و ناظر کے مسئلہ پر کس طرح زد پڑ سکتی ہے۔ جسمانیت
مطہرہ حیات حقیقیہ کے ساتھ قبر انور میں جلوہ گر ہے اور روحانیت و نورانیت تمام
اکوان عالم میں موجود ہے۔
کالشمس فی کبد السماء
وضوئہا
یغشی البلاد مشارقا و مغاربا
جس طرح سورج کے آسمان پر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین پر اس کی روشنی نہ ہو اسی طرح قبر انور میں جسمانیت شریفہ کے پائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آفاق عالم میں شمس رسالت کے انوار نہ ہوں۔ سورج آسمان پر ہی ہوتا ہے مگر اس کی شعاعیں ہر خطے کو روشن کرتی ہیں۔ حضور ﷺ قبۂ خضریٰ ہی میں ہیں لیکن اپنے انوار سے زمین و آسمان کو منور فرما رہے ہیں۔
وَمَا عَلَیْنَا
اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْنُ