رہا یہ اعتراض کہ اگر حضور نور ہیں تو آپ کی اولاد بھی نور ہونی چاہئے۔ اس لئے کہ نور سے بشر کا پیدا ہونا ممکن نہیں، عجیب مضحکہ خیز ہے اور علم و عقل کی دنیا میں حیرت انگیز ہے۔ غور فرمایئے کہ عام انسانی پیدائش جن اسباب مادیہ کے تحت ظہور پذیر ہو رہی ہے، وہ اسباب مؤثرۂ حقیقیہ ہیں یا مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ جل مجدہ ہے۔ ظاہر ہے کہ موجودہ اسباب عادی ہیں اور موثر حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ جب یہ اسباب موثر حقیقی نہیں تو ان کے خلاف کسی امر کا وقوع جس کے ساتھ مشیت ایزدی متعلق ہو جائے، کیونکر محال اور ناممکن ہو جاتا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ بشر محض سے نور اور نور سے بشر محض کو پیدا فرما دے۔ نور سے بشر کے ظہور کو محال سمجھنے والا نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اگر وہ چاہے تو زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو پیدا کر سکتا ہے۔ وہ خود اپنے کلام پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ۔
کذب جیسی قبیح چیز کو اللہ تعالیٰ کے لئے ممکن ثابت کرنے کے لئے آیہ ٔ کریمہ
اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ سے استدلال کرنے والے غور فرمائیں کہ حضور ﷺ کی فضیلت کے موقع پر اس آیت کو حجت کیوں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیا اللہ تعالیٰ نور سے بشر محض پیدا کرنے پر قادر نہیں اور اگر قادر ہے تو امکان مسلّم ہوگیا پھر اعتراض کیلئے گنجائش کہاں رہی؟
اگر اسبابِ عادیہ کے پیشِ نظر استحالہ تسلیم کرلیا جائے تو آدم علیہ السلام کا بغیر مردو عورت کے پیدا ہونا بھی محال ہوگا اور حضرت حوا علیہا السلام کا آدم علیہ السلام سے ظہور پذیر ہونا بھی ناممکن ہوگا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بھی ممتنع قرار پائے گا حالانکہ یہ تمام پیدائشیں حق و ثابت ہیں تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ اسباب عادیہ کے خلاف جب یہ تمام پیدائشیں ممکن بلکہ واقع ہیں تو حضورﷺ کا نور مجسم ہوتے ہوئے آپ کی اولاد کریمہ کا جسمانی نورانیت کے بغیر پیدا ہونا کیوں کر محال اور ناممکن ہوگیا۔
حقیقت یہ ہے کہ حضورﷺ کی اولاد یقینا نور کی ہے مگر وہ نور ایسا نور نہیں کہ جو حضورﷺ کے نور مبارک کی مثل ہوجائے کیونکہ نبی کریمﷺ اپنے ہر کمال میں بے مثال ہیں۔ اولاد کریمہ کی نورانیت، علم و عمل، ایمان و عرفان، رشد و ہدایت کے مرتبہ سے متجاوز ہوکر حضورﷺ کی نورانیتِ مقدسہ کے مساوی نہیں ہوسکتی تاکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بے مثل ہونا باطل نہ ہو یوں کہیے کہ حضور کی اولاد نور کی ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خود عینِ نور ہیں جیسا کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ؎

تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانہ نور کا

حضور کو بھوک، پیاس لگنا اور آپ کا کھانا، پینا، پھر صحت و امراض کا آپ پر طاری ہونا حتیٰ کہ زخمی ہوکر خون آلود ہونا حضور کے نور ہونے کی منافی نہیں کیونکہ ہم نبی کریمﷺ کی نورانیت کے ساتھ بشریتِ مطہرہ کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ذاتِ اقدس میں نورانی اوصاف بتقاضائے نورانیت پائے جاتے ہیں اور بشری صفات بتقاضائے بشریت ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ نوری حقیقتوں کا بشری صورتوں میں ظاہر ہونا ایک ایسی ناقابلِ انکار حقیقت ہے جس کے ثبوت پر کتاب و سنت سے آفتابِ نصف النہار سے زیادہ چمکتے ہوئے دلائل قائم ہیں ’’فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا‘‘ (سورہ مریم پارہ ۱۶) البتہ حضور کی بشریت ملائکہ کی ملکیت سے افضل و اعلیٰ ہے اور برتر و بالا ہے حضور کو بشریت ملی مگر وہ بشریت جو نقائص بشریت سے پاک ہے یوں کہیے کہ حضور کی نورانیتِ مقدسہ کو بے عیب بشریت کا لباس پہناکر اس عالم میں مبعوث فرمایا گیا اور یہ بشریت اس لئے نہیں دی گئی کہ ہم اسے دیکھ کر حضور کو اپنے جیسا بشر کہیں، بلکہ صرف اس لئے کہ حضور کی جامعیت میں کسی قسم کی کمی باقی نہ رہے اور یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ ذاتِ اقدس جس طرح عالم قدس کی نورانی اور روحانی حقیقتوں کی جامع ہے بالکل اسی طرح وہ ذاتِ پاک عالمِ شہادت کے حقائق جسمیہ و ماہیات مادیہ کی جامعیت سے بھی متصف ہے اگر بشریتِ مطہرہ کے ساتھ ذات اقدس متصف نہ ہوتی تو انسانوں کو اپنی جسمانی زندگی کے ہر شعبہ میں رشد و ہدایت کی دولت سے کون سرفراز کرتا۔ حضورﷺ نے بشری لباس میں تشریف لاکر انسانی زندگی کے ہر مرحلہ میں اپنی سیرتِ پاک کے وہ مقدس نمونے پیش فرمادئیے جو ابدا لآباد تک بطور اسوۂ حسنہ آسمانِ ہدایت پر روشن ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔ قال اللّٰہ تعالیٰ ’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘‘ بھوک، پیاس، صحبت و مرض وغیرہ حالات میں سے اگر کوئی ایک حال بھی حضور پر طاری ہونے سے باقی رہ جاتا تو اسی حالت میں انسان اپنے آپ کو اسوۂ حسنہ کی نعمت سے محروم پاتا۔ حیاتِ انسانی کے وہ تمام مرحلے جن سے انسان اپنے آخری لمحاتِ حیات سے دو چار رہتا ہے، بمنزلہ ایک طویل گزر گاہ کے ہیں جس میں قدم قدم پر نشیب و فراز اور گوناگوں خطرات پائے جاتے ہیں۔ سخت تاریکی اور ظلمت کے وقت ایسے دشوار گزار راستے کو عبور کرنا بے حد دشوار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گزرگاہ کے ہر ہر قدم پر ہر خطرے اور نشیب و فراز کو ظاہر کرنے کیلئے اپنے نبی ﷺ کے احوالِ بشریہ کے چمکتے ہوئے چراغوں کو قائم فرماکر ہر ایک گزرنے والے کیلئے ایک رہ گزر کو آسان فرمادیا۔ معلوم ہوا کہ حضور کے جن احوال بشریہ کو نورانیت کے منافی قرار دیا جاتا ہے وہ سب ہدایت کے چمکتے ہوئے چراغ ہیں جو کسی تیز ہوا کے جھونکے سے بھی نہیں بجھ سکتے اور ان پر معترض ہونا گویا اس شعر کا مصداق بننا ہے ؎

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا

بھوک، پیاس وغیرہ جتنے اوصافِ بشریہ کو حضورﷺ کی نورانیتِ مقدسہ کے منافی قرار دیا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ آسمانی کے عرصہ میں وہ سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یقیناً منتفی ہیں۔ پس اگر ان کا ثبوت حضور علیہ السلام کی نورانیت کے منافی ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کیلئے ان کا انتفاء یقینا ان کی بشریت کی نفی کی دلیل ہوگا اور اگر یہ نفی بشریت عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل نہیں تو وہ انتفایٔ نورانیتِ محمدی کی دلیل کیونکر قرار پاسکتا ہے فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔
حضور کی نورانیت کے خلاف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضورﷺ کو بشریت سے نکال کر نورانیت کی طرف لے جانا حضور کی توہین ہے اس لئے کہ نوری مخلوق حضورﷺ کی خادم ہے گویا حضور کو نور قرار دینا حضور کو خدام کی صف میں کھڑا کرنا ہے۔
یہ اعتراض پہلے اعتراضات سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ ہم نے حضور کو بشریت سے کب نکالا؟ ہم تو بارہا کہہ چکے ہیں کہ حضورﷺ نورانیت کے ساتھ بشریت سے بھی متصف ہیں۔
حدیث ترمذی سے جو استدلال حضور کی نورانیت پر کیا گیا ہے۔ اس میں معترض کو یہ شبہ ہے کہ حدیث میں تو نور ہونے کی دعا مذکور ہے نہ یہ کہ حضور نور تھے اور نور ہونے کی دعا اس امر کی روشن دلیل ہے کہ کم از کم دعا کرتے وقت حضور نور نہ تھے۔ اگر نور ہوتے تو دعا کی حاجت ہی کیا تھی؟ اگرچہ اس شبہ کا جواب دیا جاچکا ہے لیکن اس میں اجمال تھا۔ اس لئے تفصیل کی ضرورت ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اگر دُعا کرتے وقت تک بقولِ معترض حضور نور نہ تھے تو دعا کرنے کے بعد حضور کی نورانیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ نیز اگر کسی نعمت کے حصول کی دُعا اس امر کی دلیل ہے کہ دعا کرتے وقت تک وہ نعمت حاصل نہیں تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ رسول اللہﷺ اپنی حیاتِ ظاہری کے آخری وقت تک اپنی ہر نماز میں
’’اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ کی دعا فرماتے رہے یا نہیں؟ بجز اثبات کے اس کا کوئی جواب نہیں دیا جاسکتا۔ یقینا حضورﷺ نے اپنی آخری نماز میں بھی ’’اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ پڑھا تو کیا نعوذ باللہ آخری وقت تک بھی رسول اللہﷺ ہدایت یافتہ نہ تھے؟ العیاذ باللّٰہ ثم العیاذ باللّٰہ! معلوم ہوا کہ جس طرح صراطِ مستقیم پر ہوتے ہوئے حضورﷺ نے ’’اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ کی دعا فرمائی بالکل اسی طرح نور ہوتے ہوئے ’’اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ نُوْرًا‘‘ کی دعا فرمائی۔
آیۂ کریمہ
’’قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ‘‘ جس سے حضورﷺ کی نورانیت پر استدلال کیا گیا ہے، اس کی تفسیر میں مفسرین نے لفظ نور سے حضورﷺ کی بجائے قرآن بھی تو مراد لیا ہے۔ ایسی صورت میں یہ دعویٰ اس آیت سے کیوں کر ثابت ہوسکتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ مفسرین اہلسنّت تو نور کی تفسیر اس آیۂ کریمہ میں حضورﷺ کی ذات پاک ہی سے کرتے ہیں البتہ معتزلہ نے یہاں نور کے معنیٰ قرآن بیان کئے ہیں۔ اگر آپ معتزلہ ہیں تو شوق سے نور کے معنی قرآن کیجئے اور کسی معتزلی پر یہ حجت قائم فرمایئے۔ الحمد للّٰہ! میں سنی ہوں۔ یہ حجت اعتزال اہلسنّت پر قائم نہیں ہوسکتی۔
دیکھئے روح المعانی میں ہے
(قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ) عَظِیْمٌ وَہُوَ نُوْرُ الْاَنْوَارِ والنبی المختار ﷺ والی ہذا ذہب قتادۃ واختارہ الزجاج وقال ابو علی الجبائی عنی بالنور القران لکشفہ واظہار طرق الہدیٰ والیقین واقتصر علی ذلک الز مخشری  (پ ۶ ص ۸۶ مطبوعہ مصر)
دنیا جانتی ہے کہ ابو علی جبائی رئیس المعتزلہ اور زمخشری امام المعتزلہ ہیں۔ اللہ اللہ ایک تو یہ لوگ ہیں کہ رسول اللہﷺ کی نورانیت کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار میں اس قدر متجاوز ہوگئے کہ معتزلہ کی تقلید کرتے ہوئے نور اور کتاب دونوں سے قرآن ہی مراد لے لیا مگر وہ لوگ بھی دنیا میں اپنے چمکتے ہوئے نشان چھوڑ گئے، جنہوں نے نور اور کتاب مبین دونوں سے رسول اللہﷺ ہی کی ذاتِ پاک کو مراد لیا ہے۔ یقین نہ ہو تو روح المعانی کی یہ عبارت پڑھ لیجئے۔
’’ولا یبعد عندی ان یراد بالنور والکتاب المبین النبیﷺ ‘‘ (پ ۶ ص ۸۶)
اس عبارت سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ نور سے قرآن مراد لینا معتزلہ کا مذہب ہے لیکن معتزلہ چونکہ اپنے آپ کو حنفی کہتے تھے اس لئے ہوسکتا ہے کہ بعض حنفی کہلانے والے معتزلہ اپنے عقیدہ کے اعتبار سے فی الجملہ مستور الحال ہوں اور بعض مفسرین اہلسنّت نے انہیں صحیح العقیدہ حنفی سمجھ کر ان کے یہ معنیٰ نقل کردئیے ہوں۔ بہر حال روح المعانی سے نور بمعنیٰ قرآن کے اصلی ماخذ کا بخوبی پتہ چل گیا اور اچھی طرح واضح ہوگیا کہ اس معنیٰ کا ماخذ و منشاء رؤساء معتزلہ ہیں۔
اگر معترض یہ کہے کہ آیۂ کریمہ
’’یَا اَ یُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًا‘‘ کے لفظ ’’شاہد‘‘ اور ’’شہید‘‘ کے معنیٰ حاضر و ناظر کرنا صحیح نہیں بلکہ یہاں شاہد و شہید کے معنی صرف گواہ ہیں اور اگر آپ کے ان معنیٰ کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو ہر وہ شخص جس کے لئے لفظ شاہد نصوص شرعیہ میں وارد ہوا ہے، حاضر و ناظر ماننا پڑے گا۔ دیکھئے قرآن مجید میں ہے ’’وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہْلِہَا‘‘ پ ۱۲ کیا یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کا شاہد بھی حاضر و ناظر ہے اور ’’وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ‘‘ (پ۲) سے ثابت ہوا کہ امت محمدیہ کا ہر فرد و بشر حاضر و ناظر ہے۔ نیز ’’وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَ أَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآئِ‘‘ کیا آپ کے نزدیک یہ تمام مرد و عورتیں حاضر و ناظر ہیں؟ اور آیۂ کریمہ ’’وَادْعُوْا شُہَدَآئَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘‘ میں جن کفار کو شہداء فرمایا گیا ہے کیا وہ بھی آپ کے نزدیک حاضر و ناظر ہیں؟ ’’لَمْ یَکُنْ لَّہُمْ شُہَدَائُ اِلاَّ اَنْفُسُہُمْ‘‘ نیز ’’وَمَا شَہِدْنَا اِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا‘‘ میں بھی ’’شہداء‘‘ اور ’’شہدنا‘‘ کے معنیٰ وہی ہیں جو آپ ’’شَاہِدًا‘‘ میں بیان کرچکے ہیں۔
نیز یہ دعویٰ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام اشیاء اور امور پر شاہد ہیں اس مقام پر مفسرین اور محدثین کے کلام میں ’’من‘‘ وغیرہ عموم کے صیغے اپنی اصل پر نہیں بلکہ وہاں عموم سے کثرت مراد ہے اور اگر اصل پر ہونے کا دعویٰ ہے تو دلیل قائم کیجئے۔
تنقیح ۲:

 کی ذیل میں ’’شاہداً‘‘ سے استدلال کرتے ہوئے مفسرین کی عبارات نقل کی گئی ہیں۔ جیسا کہ تفسیر ابوالسعود سے نقل کیا گیا ہے کہ ’’شاہداً علٰی من ارسلت الیہم‘‘ اس کے بعد صحیح مسلم کی حدیث ’’اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً‘‘ پیش کرکے عباراتِ منقولہ کو حدیث شریف سے ملاکر یہ نتیجہ نکالاگیا کہ حضورﷺ ساری مخلوق کی طرف رسول ہیں اور جس کی طرف آپ رسول ہیں اس پر آپ شاہد ہیں لہٰذا ثابت ہوا کہ آپ ساری مخلوق پر شاہد ہیں، ایک زبردست مغالطہ اور سفطہ ہے۔
یہ صحیح ہے کہ رسول اللہ ﷺ ساری مخلوق کی طرف رسول بناکر بھیجے گئے ہیں ان مفسرین کی عبارات میں یہ نہیں کہ حضور ساری مخلوق پر شاہد ہیں بلکہ ان کی عبارات میں
’’من ارسلت الیہم‘‘ ہے اور ظاہر ہے کہ ’’خلق‘‘ عام ہے اور ’’من‘‘ خاص۔ ایک ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ من ذوی العقول کیلئے مستعمل ہوتا ہے۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ حضورﷺ مبعوث تو ساری مخلوق کی طرف ہیں لیکن شاہد صرف ذوی العقول پر ہیں۔ آپ کی تقریب اس وقت تک تام نہیں ہوسکتی جب تک آپ یہ ثابت نہ کریں کہ من کے عموم میں ذوی العقول اور غیر ذوی العقول سب شامل ہوسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان تفاسیر کے حوالے بالکل ترک کردئیے گئے ہیں جن میں آپ کے خلاف تصریح موجود ہے۔ دیکھئے تفسیر جامع البیان میں ’’شاہداً‘‘للّٰہ بالوحدانیۃ او علٰی الناس باعمالہم فی القیامۃ (جامع البیان بر حاشیہ جلالین مطبوعہ مجیدی کانپور ص ۳۵۳)
تنقیح ۳:

 کے ذیل میں آپ نے بڑی کوشش اور محنت سے وہ عبارتیں پیش کی ہیں جن سے نبی کریمﷺ کا آن واحد میں متعدد مقامات پر تشریف فرماہونا اور بیک وقت اکثر حضرات کا دور دراز مقامات میں بحالت بیداری حضورﷺ کو دیکھنا ثابت ہے لیکن آپ نے اس مرحلہ پر بھی اس حقیقت کو نظر انداز کردیا کہ اولیاء اللہ کا بحالت بیداری وفاتِ نبوی کے بعد نبی ﷺ کو دیکھنا درحقیقت اولیاء اللہ کا کشف ہے اور کشف و الہام سے استدلال کرنا کسی طرح صحیح ثابت نہیں ہوسکتا۔ مسائل اعتقادیہ ہمیشہ کتاب و سنت سے ثابت ہوا کرتے ہیں نہ کہ کشف والہام سے، اس لئے آپ کی یہ تمام محنت بے فائدہ رہی۔ نیز رسول اللہﷺ کے لئے اجسادِ مثالیہ کا ثابت کرنا آپ کے اپنے عقیدے کے بھی خلاف ہے۔ اس لئے کہ اجسادِ مثالیہ حضور کی مثل ہوں گے اور آپ حضور کو بے مثل مانتے ہیں اس تقدیر پر حضور کے لئے امثالِ کثیرہ کا اثبات لازم آئے گا اور آپ کے عقیدہ کے مطابق حضور بے مثل نہ رہیں گے۔
اگر حضورﷺ کا یقظۃً تشریف فرما ہونا اور مواقع متعددہ میں تشریف لانا وفات شریف کے بعد ممکن ہوتا تو اہم ترین مواقع اور شدید اختلافاتِ امت کے وقت ظاہر ہوتے اور امت مرحومہ کی رہنمائی فرماتے لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ صحابہ کرام ث کے زمانے میں کثیر و شدید اختلافات ہوئے حتیٰ کہ زبردست خون ریزی ہوئی لیکن حضورﷺ نے ظاہر ہوکر اس کا انسداد نہ فرمایا۔ اسی طرح مسائل شرعیہ میں بکثرت علمایٔ امت حضرات مجتہدین کرام کے اختلافات ہوئے لیکن کسی موقعہ پر بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تشریف لاکر اظہارِ حق نہ فرمایا۔ معلوم ہوا کہ یہ سب من گھڑت افسانے ہیں جن کی کوئی حقیقت اور واقعیت نہیں۔
آپ نے شاہ عبدالحق صاحب کا ایک قول ان کے مکتوبات سے حاضر و ناظر کے ثبوت میں نقل کیا ہے۔ اس کے جواب میں اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ حاضر و ناظر کے مسئلہ میں شاہ عبدالحق صاحب نے جو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ امت محمدیہ میں ایک شخص کو بھی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں، مشاہدہ کے خلاف ہے۔ پھر یہ کہ انہوں نے صرف اعمالِ امت پر حضورﷺ کو حاضر و ناظر کہا ہے اور آپ ہر ذرۂ کائنات پر حضورﷺ کو حاضر و ناظر مانتے ہیں۔ آپ کے دعویٰ پر ان کا قول کہاں منطبق ہوتا ہے؟
ہر ذرۂ کائنات میں حقیقت محمدیہ کو جاری و ساری ماننا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی شدید توہین ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ذواتِ کائنات میں ناپاک اور خبیث اشیاء بھی شامل ہیں اور شرم و حیا کے مواقع بھی اس کے عموم میں داخل ہیں تو کیا پیشاب، پاخانہ، کتا، بلی وغیرہ ناپاک، حرام اور خبیث اشیا میں اور اسی طرح شیاطین کفار و منافقین اور طبقات جہنم کے اندر بھی حضور کے نور کی شعاعیں پائی جاتی ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو آپ نے اپنے دعویٰ کو خود ہی باطل قرار دے دیا اور اگر اثبات میں ہے تو اس سے بڑھ کر حضور کی کیا توہین ہوگی کہ ہر خبیث و قبیح او رنجس و ناپاک چیز میں حضور کی حقیقت مبارکہ کے جلوؤں کو تسلیم کیا جائے۔ العیاذ باللّٰہ! نیز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حاضر و ناظر جاننے کی تقدیر پر حضورﷺ ہر ایک کے نزدیک موجود ہوں گے۔ ایسی صورت میں کسی شخص کو بلند آواز سے کلام کرنا کسی وقت بھی جائز نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اور وَلَا تَرْفَعُوْآ اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ان آیات کے ہوتے ہوئے اونچی آواز سے بولنا کسی مسلمان کے لئے کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا عند الضرورت اونچی آواز سے بولنے والے یا تو حضور کو حاضر و ناظر نہیں سمجھتے یا جان بوجھ کر حکمِ خداوندی کی مخالفت کرتے ہیں۔
مزید برآں کئی آیاتِ قرآنیہ حضور کے حاضر و ناظر ہونے کی نفی کرتی ہیں۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْ اَہْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیَاتِنَا (قصص) اور نہ تھے آپ نازل اہل مدین میں کہ ان پر ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْنَادَیْنَا ۔ (سورۂ قصص)
’’اور نہیں تھے آپ طور کی جانب میں جب ہم نے آواز دی‘‘
اور سنئے ارشاد ہوتا ہے۔
وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَہُمْ (آلِ عمران)
’’اور نہ تھے آپ ان کے قریب جب وہ ڈالتے تھے اپنی قلموں کو‘‘
ان تمام آتیوں سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ حاضر و ناظر نہیں ورنہ ان مواقع اور مقامات پر حضور کا موجود نہ ہونا کیا معنیٰ رکھتا ہے۔ اس مضمون کی بکثرت آیات قرآن پاک میں موجود ہیں۔
اب احادیث کی طرف آیئے تو ایک حدیث معراج ہی حاضر و ناظر کے مسئلہ کا قلع قمع کرنے کے لئے کافی ہے۔ ہر شخص جانتا ہے شب معراج حضورﷺ جب مکہ سے بیت المقدس کی طرف چلے تو مکہ میں حضور نہ رہے۔ پھر جب مسجد اقصیٰ سے پہلے آسمان پر پہنچے تو مسجد اقصیٰ حضور سے خالی ہوگئی اور دوسرے آسمان پر پہنچے تو پہلے پر آپ نہ رہے۔ اسی طرح ساتوں آسمانوں کی طرف چلے جایئے پھر جب حضور وہاں سے واپس آئے تو سماوات حضور کے وجود سے خالی ہوگئے۔ اگر حاضر و ناظر کا مسئلہ حق ہو تو معراج باطل ہوتی ہے کیونکہ جانے اور آنے کے معنیٰ یہ ہیں کہ جانے سے پہلے جانے والا اس مقام پر موجود نہیں جہاں جانا چاہتا ہے اور آنے کے بعد اس جگہ نہیں رہا جہاں سے آیا ہے اس لئے حاضر و ناظر کے عقیدے کے ساتھ معراج کا عقیدہ جمع نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ معراج کے قائل ہیں تو حاضر و ناظر کا انکار کیجئے اور اگر حاضر و ناظر کو صحیح مانتے ہیں تو عقیدۂ معراج سے دستبرداری کا اعلان فرمایئے۔
یہ اعتراض کہ اگر
’’شاہداً‘‘ کے معنیٰ حاضر و ناظر ہیں تو قرآن و حدیث میں جس جس کے متعلق شاہد و شہید کا لفظ فرمایا گیا ہے۔ ان سب کو حاضر و ناظر ماننا پڑے گا۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ شاہد و شہید کے معنیٰ تو حاضر و ناظر ہی کے ہیں جیسا کہ مفردات امام راغب اصفہانی کی مفصل عبارات پیش کی جاچکی ہیں لیکن معترض نے اس بات پر بالکل غور نہیں کیا کہ ہر شاہد و شہید اسی چیز پر حاضر و ناظر ہوگا جس پر شاہد و شہید ہے اگر کوئی شخص آپ کے کسی معاملہ کا گواہ ہے تو اس کا حاضر و ناظر ہونا اسی واقعہ کے ساتھ خاص ہے نہ یہ کہ وہ تمام واقعاتِ عالم پر حاضر ناظر ہے۔ آپ نے جو آیتیں معارضے میں پیش کی ہیں، ان میں کوئی شاہد و شہید بھی ایسا مذکور نہیں جس کی شہادت تمام عالم پر منصوص ہو بخلافِ رسول کریمﷺ کے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ’’شاہد علیٰ من ارسلت الیہم‘‘ یعنی جس کی طرف آپ رسول ہیں اس پر شاہد بھی ہیں اور مسلم شریف کی حدیث میں پیش کرچکا ہوں کہ حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔ اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً اگر شاہدا علی من ارسلت الہم اور ارسلت الی الخلق کافۃ دونوں کو ملا کر نتیجہ نکالیں تو بڑی آسانی سے سمجھ لیں گے کہ حضورﷺ ’’شَاہِدًا عَلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً‘‘ ہیں۔ یعنی تمام مخلوق پر شاہد ہیں۔ اب سوچئے کہ یہ معارضہ کہاں تک صحیح ہے؟
لفظ ’’من‘‘ کے متعلق جو اعتراض کیا گیا اس کے جواب سے پہلے اس شبہ کا ازالہ ضروری ہے کہ قرآن کریم میں امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کو مخاطب فرما کر یہ ارشاد فرمایا گیا ہے۔
’’لِتَکُوْنُوْا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ‘‘ ہم نے تم کو امت عادل اس لئے بنایا کہ تم لوگوں پرگواہ ہو جاؤ۔ ’’الناس‘‘ اسم جنس ہے، لہٰذا حضور کی امت کا تمام لوگوں پر شہید ہونا ثابت ہوا اس لئے ماننا پڑے گا کہ جب وہ تمام لوگوں پر شہید ہیں تو وہ ان سب پر حاضر و ناظر بھی ہوں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ کسی لفظ کے مرادی معنیٰ ہر مقام پر ایک ہی ہوں بلکہ اصول یہ ہے کہ جس مقام پر بھی کسی لفظ کے معنیٰ متعین کئے جائیں تو پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ اس مقام میں ان معنیٰ کی تعیین کسی دلیل کے خلاف تو نہیں۔ اگر کوئی دلیل اس کے خلاف پر قائم نہ ہو تو وہ معنیٰ یقینا حق ہوں گے اور اگر اس معنیٰ کے خلاف پر کوئی دلیل قائم ہو تو ان کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں۔
بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہ اعتراض بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کے لئے قرآنِ مجید کی وہ تمام آیتیں پڑھ دیتے ہیں جن میں لفظ
’’تَوَفیّٰ‘‘ بمعنی موت وارد ہے اور اس امر کو قطعاً نظر انداز کر دیتے ہیں کہ آیہ ٔ کریمہ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ میں ’’تَوَفیّٰ‘‘ بمعنی موت مراد لینے کے خلاف کتاب و سنت کے بے شمار دلائل قائم ہیں۔
معترض اس امر پر غور کرے کہ جس طرح قرآن مجید کی متعدد آیات میں ’
’تَوَفیّٰ‘‘ بمعنیٰ موت مستعمل ہے لیکن ہم ان استعمالات کو ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ میں ’’تَوَفیّٰ‘‘ بمعنی موت ہرگز بطور نظیر پیش نہیں کر سکتے۔ بالکل اسی طرح ’’شُھَدَائَ عَلَی النَّاسِ‘‘ کے مرادی معنیٰ کو شاہداً کے مقابلہ میں بطور نظیر نہیں لا سکتے۔
اس اجمال کی تفصیل کے لئے گزارش ہے کہ شاہد اور شہود کے معنیٰ تو حاضر ہونا اور دیکھنا ہی ہیں لیکن محاورات اور مقامات کے اختلاف سے حاضر و ناظر ہونے کی نوعیت میں ضرور تبدیلی ہو جاتی ہے اور اس تبدیلی ٔ نوعیت کی وجہ سے حاضر و ناظر کا مفہوم باقی رہتے ہوئے لفظِ شہادت اور شاہد و شہید کے معانی کثیرہ ہو گئے باوجود ان کثرت معانی کے حقیقی معنٰی کسی رنگ میں ہر استعمال میں موجود ہیں۔ بطورِ نمونہ چند معانی مفرداتِ راغب، مجمع بحار الانوار، منجد، مختار الصحاح وغیرہ کتب ِ معتبرہ متداولہ سے نقل کرتا ہوں۔


شہادت
۱: ظاہری یا باطنی آنکھ کے ساتھ دیکھتے ہوئے حاضر ہونا(شہود کے معنی بھی یہی ہیں)
۲: عالم موجوداتِ ظاہری
۳: خدا کی راہ میں جان دینا
۴: قسم
۵: یقینی خبرشاہد: ظاہری یا باطنی آنکھ کے ساتھ دیکھ کر حاضر ہونے والا
۶: زبان
۷: ستارہ
۸: املاک الامر (کسی شے کا دارومدار) شہید: ظاہری یا باطنی آنکھ کے ساتھ دیکھتے ہوئے حاضر ہونے والا
۹: اپنی شہادت میں امانت داری سے کام لینے والا
۱۰: وہ ذات جس کے علم سے کوئی شیٔ غائب نہ ہو اور اللہ کی راہ میں جان دینے والا
اگر آپ ان معانی کو مختلف محاورات اورمقاماتِ استعمال میں بغور ملاحظہ فرمائیں تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ شہادت اور شہود کے حقیقی معنیٰ الحضور مع المشاہدہ کا اعتبار ہر محاورے اور محل استعمال الفاظ میں پایا جاتا ہے۔ البتہ حیثیات مختلف ضرور ہوں گی جو کسی حال میں ہمارے دعویٰ کے لئے مضر نہیں۔
 

پچھلا صفحہ                        اگلا صفحہ

ہوم پیج