اس کے
بعد صاحب روح المعانی نے حضرت شیخ تاج الدین بن عطاء اللہ کا قول لطائف المنن سے اس
طرح نقل فرمایا
قال رجل للشیخ ابی العباس
المرسی یا سیدی صافحنی بکفک ھٰذا فانک لقیت رجالاً وبلاداً فقال واللّٰہ ماصافحت
بکفی ھٰذہٖ الا رسول اللہ ﷺ قال وقد قال الشیخ لو حجب عنی رسول اللہ ﷺ طرفۃ عین
ماعددت نفسی من المسلمین ونقل ھٰذہ النقول کثیر من کتب القوم جدا
(روح المعانی پ ۲۲ ص ۳۳؍۳۴ مطبوعہ مصر)
کسی شخص نے حضرت شیخ ابو العباس مرسی سے عرض کیا، ’’اے میرے سردار! آپ اس ہتھیلی کے
ساتھ مجھ سے مصافحہ فرمائیں۔ اس لئے کہ آپ بڑے شہروں میں گھومے ہیں اور بڑے مردانِ
خدا سے آپ نے ملاقات کی ہے۔‘‘ حضرت شیخ ابو العباس مرسی نے فرمایا، ’’خدا کی قسم!
میں نے اس ہتھیلی سے سوائے رسول اللہ ﷺ کے کسی کے ساتھ مصافحہ نہیں کیا۔‘‘ حضرت
امام تاج الدین نے فرمایا کہ حضرت شیخ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر پلک جھپکنے کی مقدار
رسول اللہ ﷺ مجھ سے حجاب میں ہو جائیں تو میں اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار نہ کروں
اور اس جیسی نقول کتب قوم میں بہت زیادہ ہیں۔
اس کے بعد اسی بحث میں صاحب روح المعانی نے امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ
کی عبارت تنویر الحلک سے نقل فرمائی جس کو بلفظہا پیش کرتا ہوں۔
فحصل من مجموع ھٰذا الکلام
المنقول والاحادیث ان النبی ا حی بجسدہٖ وروحہٖ وانہ یتصرف ویسیر حیث شاء فی اقطار
الارض وفی الملکوت وھو بھیئتہ التی کان علیھا قبل وفاتہٖ لم یتبدل منہ شیٔ و انہ
مغیب عن الابصار کما غیبت الملائکۃ مع کونھم احیاء باجسادھم فاذا اراد اللّٰہ
تعالیٰ رفع الحجاب عمن اراد اکرامہ برؤتہٖ راہ علی ھیئتہ التی ھو علیہ الصلوٰۃ
والسلام علیہا لا مانع من ذلک ولا داعی الی التخصیص برؤیۃ المثال۔
۱ھ
ان تمام نقول اور احادیث سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ نبی کریم ﷺ اپنے جسم مبارک اور
روح اقدس کے ساتھ زندہ ہیں اور بے شک حضور ﷺ اطراف زمین اور ملکوتِ اعلیٰ میں جہاں
چاہتے ہیں سیر اور تصرف فرماتے ہیں اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنی اسی ہیئت
مبارکہ کے ساتھ ہیں، جس پر وفات سے پہلے تھے اور حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی کوئی
چیز بدلی نہیں ہے اور بے شک نبی کریم ﷺ ظاہری آنکھوں سے غائب کر دئیے گئے ہیں، جس
طرح ملائکہ غائب کر دئیے گئے ہیں حالانکہ وہ سب اپنے جسموں کے ساتھ زندہ ہیں۔ جب
اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنے حبیب ﷺ کا جمال دکھا کر عزت و بزرگی عطا فرمانا
چاہتا ہے تو اس سے حجاب کو دور کر دیتا ہے اور وہ مقرب بندہ حضور ﷺ کو اسی ہیئت پر
دیکھ لیتا ہے، جس پر حضور واقع میں ہیں۔ اس رؤیت سے کوئی چیز مانع نہیں اور رؤیت
مثالی کی تخصیص کی طرف کوئی امر داعی نہیں۔
اور زرقانی جلد ۱ ص ۸ مطبوعہ مصر میں ہے
لا یمتنع رؤیۃ ذاتہ علیہ
الصلٰوۃ والسلام بجسدہٖ و روحہٖ
یعنی حضور ﷺ کو حضور کے جسم اقدس اور روحِ مبارک کے ساتھ دیکھنا محال نہیں ہے۔
حضور ﷺ کا جمال دیکھنے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دیکھنے والے نے حضور کی ذاتِ
اقدس اور روح مبارک کو دیکھا اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جمالِ محمدی دیکھنے والا
حضور سید عالم ﷺ کے اس مبارک جسم مثالی کو دیکھ رہا ہے جس کے ساتھ حضور ﷺ کی روح
مجردہ قدسیہ متعلق ہے اور اس امر سے کوئی شے مانع نہیں ہے کہ حضور ﷺ کے مثالی اجسام
بے شمار تعداد میں متعدد ہو جائیں اور ہر جسد اقدس کے ساتھ روحِ مقدس کا بالکل وہی
تعلق رہے جو ایک جسم کے الگ الگ اعضاء اور اجزاء کے ساتھ ہوتا ہے۔ جیسا کہ روح
المعانی میں نہایت تفصیل کے ساتھ وارد ہے، ملاحظہ فرمایئے
والمرئی اماروحہ علیہ الصلٰوۃ
والسلام التی ھی اکمل الارواح تجرداً وتقدسا بان تکون قد تطورت وظھرت بصورۃ مرئیۃ
بتـلـک الرؤیـۃ مع بقاء تعـلـقـھـا بجـسـدہٖ الشریف الحی فی القبر السامی المنیف
علیٰ حد ما قالہ بعضھم من ان جبریل علیہ السلام مع ظھورہٖ بین یدی النبی ں فی صورۃ
دحیۃ الکلبی او غیرہ لم یفارق سدرۃ المنتھیٰ واما جسد مثالی تعلقت بہٖ روحہ ا
المجردۃ القدسیۃ ولا مانع من ان یتعدد الجسد المثالی الی مالا یحصی من الاجساد مع
تعلق روحہ القدسیۃ علیہ من اللّٰہ تعالیٰ الف الف صلوٰۃ وتحیۃ بکل جسد منھا ویکون
ھٰذا التعلق من قبیل تعلق الروح الواحدۃ باجزاء بدن واحد ولا تحتاج فی ادراکاتھا
واحساساتھا فی ذلک التعلق الی ما تحتاج الیہ من الاٰلات فی تعلقھا بالبدن فی الشاھد
علیٰ ما ذکر یظھر وجہ ما نقلہ الشیخ صفی الدین بن ابی منصور و الشیخ عبد الغفار عن
شیخ ابی العباس الطنجی من انہ رٰای السماء والارض والعرش والکرسی مملوء ۃ من رسول
اللہ ﷺ وینحل بہ السوال عن کیفیۃ رؤیۃ المتعددین لہ علیہ الصلٰوۃ والسلام فی زمان
واحد فی اقطار متباعدۃ ولا یحتاج معہ الیٰ ما اشار الیہ بعضھم وقد سئل عن ذلک فانشد
؎
کالشمس فی کبد السماء
وضوء ھا
یغشی البــلاد مشــارقا و مغــاربا
(روح المعانی پ ۲۲ ص ۳۵ مطبوعہ مصر)
اور جو چیز دیکھنے میں آتی ہے وہ یا روح مبارک ہے نبی ﷺ کی جو تجرد اور تقدس کے لحاظ سے تمام روحوں میں سب سے زیادہ کامل ہے۔ بایں طور کہ وہ روحِ مبارک ظاہری صورت میں اس رؤیت کے ساتھ نظر آنے لگتی ہے اور اس روح اقدس کا تعلق حضور ﷺ کے اس جسد مبارک کے ساتھ باقی ہے جو قبر مبارک میں زندہ ہے۔ یہ قول بعض محققین کے اس قول کے بالکل مطابق ہے کہ جبریل علیہ السلام جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے حضرت دحیہ کلبی وغیرہ کی صورت میں حاضر ہوتے تھے تو سدرۃ المنتہیٰ سے جدا نہ ہوتے تھے۔ (دیکھئے جبریل علیہ السلام زمین پر بھی ہیں اور اسی وقت سدرۃ المنتہیٰ پر بھی موجود ہیں) اور یا مثالی جسم نظر آتا ہے جس کے ساتھ روح مجردہ قدسیہ متعلق ہے اور اس سے کوئی شے مانع نہیں ہے کہ حضور ﷺ کے مثالی جسم لاتعداد و لا تحصیٰ ہو جائیں اور روح قدسیہ کا تعلق ہر جسم سے مساوی طور پر رہے اور یہ تعلق بالکل ایسا ہے جیسا کہ ایک روح ایک بدن کے الگ الگ اجزاء و اعضاء سے تعلق رکھتی ہے اور مثالی جسموں میں وہ روح اپنے ادراکات و احساسات میں ان آلات کی قطعاً محتاج نہیں ہوتی جن کی ضرورت اسے کسی مشاہدہ کرنے والے شخص میں اس کے بدن کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے ہوتی ہے (۱) اور اس بیان پر اس قول کی وجہ بھی ظاہر ہوجاتی ہے جس کو شیخ صفی الدین بن منصور اور شیخ عبدالغفار نے حضرت شیخ ابو العباس طنجی سے نقل کیا اور وہ یہ ہے کہ حضرت ابو العباس طنجی نے آسمانوں اور زمینوں اور عرش اور کرسی کو رسول اللہ ﷺ سے بھرا ہوا دیکھا نیز اس بیان سے یہ سوال بھی حل ہو جاتا ہے کہ متعدد لوگ ایک ہی وقت میں دور دراز مقامات پر رسول اللہ ﷺ کو کس طرح دیکھ سکتے ہیں پھر یہ کہ اس بیان کے ہوتے ہوئے اس مضمون کی بھی حاجت نہیں رہتی جس کی طرف بعض بزرگوں نے اس شعر میں اشارہ کیا ہے۔ جب ان سے اس روایت کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ شعر پڑھ دیا ؎
کالشمس فی کبد السماء
وضوء ھا
یغشی البــلاد مشــارقا و مغــاربا
یعنی ’’نبی
کریم ﷺ اس سورج کی طرح ہیں جو آسمان کے وسط میں ہو اور اس کی روشنی مشرقوں اور
مغربوں کے تمام شہروں کو ڈھانک لے۔‘‘
حضور ﷺ کے لئے اقطار عالم کے اندر تشریف فرما ہونا کیوں کر ناممکن ہو سکتا ہے۔ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھئے کہ آسمان پر ہونے کے باوجود زمین پر تشریف فرما ہوتے
ہیں اور ان کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس وقت صرف زمین پر ہیں، آسمان پر
نہیں۔ علامہ سید محمودالوسی اسی تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں
اخرج ابن عدی عن انس بَیْنَا
نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا اِذْ رَأَیْنَا بُرْدًا وَیَدًا فَقُلْنَا یَا
رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا ھٰذَا الْبُرْدُ الَّذِیْ رَأَیْنَا وَالْیَدُ قَالَ قَدْ
رَأَیْتُمُوْہُ قَالُوْا نَعَمْ قَالَ ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ سَلَّمَ
عَلَیَّ
ابن عدی نے حضرت انس سے روایت کیا اس اثناء میں کہ ہم (صحابہ) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ
تھے ناگہاں ہم نے ایک چادر اور ایک ہاتھ دیکھا۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ (علیہ
الصلٰوۃ والسلام)! کیا ہے یہ چادر جو ہم نے دیکھی اور یہ ہاتھ کیسا ہے؟ حضور علیہ
الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا تم نے دیکھا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا، حضور ہاں!
فرمایا، یہ عیسیٰ ابن مریم ہیں، جنہوں نے مجھ پر سلام عرض کیا۔
اور سنیئے!
اسی مقام پر بلکہ اسی حدیث کے نیچے صاحب روح المعانی ایک دوسری حدیث ارقام فرماتے
ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے۔
وفی روایۃ ابن عساکر عنہ
کُنْتُ اَطُوْفُ مَعَ النَّبِیِّ ا حَوْلَ الْکَعْبَۃِ اِذْرَأَیْتُہٗ صَافَحَ
شَیْئًا وَّلَمْ أَرَہُ قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَأَیْنَاکَ صَافَحْتَ
شَیْئًا وَّلَا نَرَاہُ قَالَ ذٰلِکَ اَخِیْ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ اِنْتَظَرْتُہٗ
حَتیّٰ قَضیٰ طَوَافَہٗ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ
اور ابن عساکر کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے
ہیں ، میں حضور ﷺ کے ساتھ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ ناگہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو
دیکھا کہ آپ نے کسی سے مصافحہ فرمایا اور میں نے اسے نہیں دیکھا۔ ہم نے عرض کیا، یا
رسول اللہ ﷺ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے کسی سے مصافحہ فرمایا مگر ہم نے اس کو
نہیں دیکھا۔ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا وہ میرے بھائی عیسیٰ ابن مریم
ہیں۔ میں ان کا انتظار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے طواف سے فارغ ہو گئے پھر میں
نے ان پر سلام پیش کیا۔
دیکھئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر رونق افروز ہوتے ہوئے زمینوں پر بھی
موجود ہیں اور ایک عیسیٰ علیہ السلام پر کیا موقوف ہے احادیث صحیحہ کی روشنی میں
علیٰ رؤوس الاشہاد عرض کرتا ہوں کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اورمقربانِ
بارگاہِ ایزدی کسی ایک مکان میں مقید نہیں ہوتے۔ ایک مکان کیا بلکہ ایک جہان میں
بھی وہ مقید نہیں ہوتے بلکہ بیک وقت تمام جہانوں میں تشریف فرما ہوں تو ممکن بلکہ
واقع ہے۔ حدیث شریف میں ہے حضور سید عالم ﷺ نے شب معراج بیت المقدس میں انبیاء و
مرسلین علیہم السلام کی امامت فرمائی اور تمام انبیاء و رسل نے حضور ﷺ کے پیچھے
نماز پڑھی، جیسا کہ تفسیر ابن جریر جزء ۵ ص ۳ پر ہے
ثُمَّ اِنْطَلَقْنَا حَتیّٰ
اَتَیْنَا اِلیٰ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ فَصَلَّیْتُ فِیْہِ بِالنَّبِیِّیْنَ
وَالْمُرْسَلِیْنَ اِمَامًا ثُمَّ عُرِجَ بِیْ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا
حضور ﷺ فرماتے ہیں پھر ہم چلے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے میں نے وہاں تمام نبیوں
اور رسولوں کو امام بن کر نماز پڑھائی پھر مجھے پہلے آسمان کی طرف لے جایا گیا۔
یہی مضمون ابویعلیٰ نے ام ہانی سے، مسلم نے ابو سلمہ اور سیدنا ابن مسعود سے،
طبرانی نے اوسط میں ابی امامہ سے اور بیہقی نے ابو سعید سے اور امام احمد نے حضرت
ابن عباس سے روایت فرمایا ہے۔ ملاحظہ فرمایئے۔ مواہب اللدنیہ جزء ۲ ص ۱۶؍۱۷ مطبوعہ
مصر، صحیح مسلم جلد ۱ ص ۹۶ مطبع انصاری دہلی، باب الاسراء برسول اللّٰہ ﷺ و فرض
الصلوٰت۔
بیت المقدس میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو نماز پڑھا کر حضور ﷺ آسمانوں پر
تشریف لے گئے اور وہاں آدم علیہ السلام، یحییٰ و عیسیٰ علیہما السلام، یوسف علیہ
السلام، ادریس علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم علیہ
السلام کو دیکھا اور ان سے ملاقات فرمائی۔ بخاری شریف جلد ۱ ص ۵۴۸؍ ۵۴۹ مطبوعہ اصح
المطابع باب المعراج، مسلم شریف مطبوعہ اصح المطابع جلد ۱ ص ۹۳ باب الاسراء برسول
اللّٰہ ﷺ۔
یہاں قابل غور امر یہ ہے کہ ان میں سے جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام وفات پا چکے
ہیں، وہ اپنی قبورِ مبارکہ کے اندر عالم برزخ میں بھی موجود ہیں جو ایک مستقل جہان
ہے اور اس جہانِ دنیا میں بھی مسجد بیت المقدس میں حضور ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے
ہیں اور جب حضور سید عالم ﷺ آسمانوں پر رونق افروز ہوتے ہیں (جسے عالم آخرت کہنا
چاہئے) تو وہاں بھی اپنے اپنے مقامات پر یہ حضرات موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ انبیاء
علیہم الصلوٰۃ والسلام بیک وقت عالم دنیا، عالم برزخ اور عالم آخرت میں موجود ہیں۔
جب ہر عالم میں ان حضرات کا بیک وقت موجود ہونا ثابت ہے تو حضور ﷺ کا ہر مکان میں
موجود ہونا کیوں کر ناممکن ہو سکتا ہے۔
دیکھئے اسی حدیث معراج سے بالکل یہی مضمون امام شعرانی رحمۃ اللہ نے ثابت کیا ہے۔
چنانچہ امام موصوف الیواقیت و الجواہر جلد دوم ص ۳۶ مطبوعہ مصر میں فوائد معراج کی
تفصیل فرماتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں
ومنھا شھود الجسم الواحد فی
مکانین فی اٰن واحد کما رای محمد ا نفسہ فی اشخاص بنی اٰدم السعداء حین اجتمع بہٖ
فی السماء الاولیٰ کما مر وکذٰلک اٰدم و موسیٰ و غیرھما فانھم فی قبورھم فی الارض
حال کونھم ساکنین فی السماء فانہ قال رأیت آدم رأیت موسیٰ رأیت ابراہیم واطلق وما
قال رأیت روح آدم ولا روح موسیٰ فراجع ا فی السماء وھو بعینہٖ فی قبرہ فی الارض
قائما یصلی کما وردفیا من یقول ان الجسم الواحد لایکون فی مکانین کیف یکون ایمانک
بھذا الحدیث فان کنت مؤمنا فقلد وان کنت عالما فلا تعترض فان العلم یمنعک ولیس لک
الاختبار فانہ لا یختبر الا اللّٰہ ولیس لک ان تتأول ان الذی فی الارض غیر الذی فی
السماء لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام رأیت موسیٰ واطلق وکذٰلک سائر من راٰہ من
الانبیاء ھناک فالمسمّٰی موسیٰ ان لم یکن عینہ فالاخبار عنہ کذب انہ موسیٰ ہٰذا
اور فوائد معراج میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ایک جسم آن واحد میں دو مکانوں میں
حاضر ہو گیا۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے نیک بخت اولادِ آدم کے افراد میں خود اپنی ذات
کریمہ کو بھی ملاحظہ فرمایا۔ جب حضور ﷺ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ پہلے آسمان پر
جمع ہوئے تھے جیسا کہ گزرا اور اسی طرح آدم اور موسیٰ علیہما السلام اور ان کے
علاوہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ پس بے شک وہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام
زمین میں اپنی قبروں کے اندر ہیں دراں حالیکہ وہ آسمانوں میں بھی سکونت رکھتے ہیں۔
حضور ﷺ نے مطلقاً اس طرح فرمایا کہ میں نے آدم علیہ السلام کو دیکھا۔ موسیٰ علیہ
السلام کو دیکھا، ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، روح کی قید کے ساتھ مقید فرما کر
اس طرح نہیں فرمایا کہ میں نے آدم علیہ السلام کی روح کو دیکھا اور نہ یوں فرمایا
کہ موسیٰ علیہ السلام کی روح کو دیکھا (جس سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ نے بعینہٖ ان
انبیاء علیہم السلام ہی کو دیکھا تھا نہ کہ ان کی ارواح یا امثال کو) پھر حضور ﷺ نے
چھٹے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ گفتگو اور مراجعت فرمائی حالانکہ موسیٰ
علیہ السلام بعینہٖ زمین میں اپنی قبر شریف کے اندر کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔
جیسا کہ (مسلم شریف کی) حدیث میں وارد ہوا ہے۔ پس انتہائی افسوس ہے اور تعجب اس
کہنے والے پر جو یہ کہتا ہے کہ ایک جسم بیک وقت دومکانوں میں نہیں ہو سکتا (اے
قائل) ذرا یہ تو بتا دے کہ اس قول کے ہوتے ہوئے تیرا ایمان اس حدیث پر کیوں کر ہو
سکتاہے؟ اگر تو مومن ہے تو تجھے مان لینا چاہئے، اگر تو عالم ہے تو اعتراض نہ کر،
اس لئے کہ علم تجھے روکتا ہے اور تجھے حقیقتِ حال کا علم ہے نہیں، اس لئے کہ علم
حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور تیرے لئے یہ بات بھی جائز نہیں کہ تو اس حدیث میں
یہ تاویل کرے کہ جو انبیاء زمین میں ہیں وہ ان کے غیر ہیں جنہیں حضور علیہ الصلٰوۃ
والسلام نے آسمان میں دیکھا۔ اس لئے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ’’رائیت
موسیٰ‘‘ مطلقاًفرمایا اور اسی طرح باقی انبیاء علیہم السلام کے متعلق جنہیں حضور
علیہ الصلٰوۃ والسلام نے آسمانوں میں دیکھا۔ (یہ نہیں فرمایا کہ میں نے آسمان میں
ان کے غیر کو دیکھا جو زمین میں ہیں) تو حضور ﷺ نے جن کو موسیٰ فرمایا اگر وہ
بعینہٖ موسیٰ علیہ السلام نہ ہوں تو ان کے متعلق یہ خبر دینا کہ وہ موسیٰ ہیں، کذب
ہو گا۔ العیاذ باللّٰہ!
آگے چل کر امام شعرانی نے فرمایا
ثم ان المعترض ینکر علی
الاولیاء مثل ھذا فی تطوراتھم وقد کان قضیب البان یتطور فیما شاء من الصور فی اماکن
متعددۃ وکل صورۃ خوطب فیھا اجاب اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ
پھر معترض اولیاء اللہ کے متعدد صورتوں میں ظاہر ہونے کا انکار کرتا ہے حالانکہ
حضرت قضیب البان رضی اللہ عنہ جن صورتوں میں چاہتے تھے مختلف مقامات میں متصور ہو
کر ظاہر ہو جاتے تھے اور جس صورت میں بھی آپ کو پکارا جاتا تھا آپ ضرور جواب دیتے
تھے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (الیواقیت و الجواہر جلد ۲ ص ۳۶)
بزرگانِ دین کا اپنی روحانیت اور نورانیت کے ساتھ متمثل ہو کر متعدد مقامات میں
ظاہر ہونا درحقیقت ایک ایسا کمال ہے جو ان حضرات کو قوت قدسیہ کی تکمیل کے بعد حاصل
ہوجاتا ہے۔ دیکھئے صاحب روح المعانی اپنی تفسیر پارہ ۲۳ ص ۱۳ پر ارشاد فرماتے ہیں
والانفس الناطقۃ الانسانیۃ اذا
کانت قدسیۃ قد تنسلخ من الابدان و تذھب متمثلۃ ظاہرۃ بصور ابدانھا او بصور اخریٰ
کما یتمثل جبریل علیہ السلام ویظہر بصورۃ دحیۃ او بصورۃ بعض الاعراب کما جاء فی
صحیح الاخبار حیث یشاء اللّٰہ عز وجل مع بقاء نوع تعلق لہا با الابدان الاصلیۃ
یتاتی معہ صدور الافعال منہا کما یحکی عن بعض الاولیاء قدست اسرارہم انہم یرون فی
وقت واحد فی عدۃ مواضع وما ذاک الا لقوۃ تجرد انفسہم وغایۃ تقد سہا فتمثل وتظہر فی
موضع وبدنہا الاصلی فی موضع اٰخر
لا تقل دارہا بشرقی نجد ض کل نجد للعامریۃ دار
اور انسانی روحیں جب مقدس ہو جاتی ہیں تو کبھی اپنی بدنوں سے الگ ہو کر ان ہی بدنوں
کی صورتوں یا دوسری شکلوں میں ظاہر ہو کر جبریل علیہ السلام کی طرح جیسا کہ دحیہ
کلبی یا بعض اعراب کی صورت میں ظاہر ہوتے تھے جس طرح صحیح حدیثوں میں وارد ہوا ہے
جہاں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تشریف لے جاتی ہیں اور ان کا اپنے اصلی بدنوں کے ساتھ
ایک قسم کا تعلق بھی باقی رہتا ہے اور وہ تعلق ایسا ہوتا ہے کہ جس کی وجہ سے بدنوں
سے ان روحوں کے کام صادر ہوتے رہتے ہیں۔ چنانچہ بعض اولیاء قدست اسرارہم کے متعلق
منقول ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں متعدد مقامات پر دیکھے جاتے ہیں اور یہ بات صرف اس
وجہ سے ہے کہ ان کی روحیں قوتِ تجرد اور انتہائے تقدس میں اعلیٰ مرتبہ حاصل کر لیتی
ہیں۔ اس وجہ سے وہ روحیں متمثل ہو کر کسی جگہ ظاہر ہوتی ہیں حالانکہ ان کا اصل بدن
دوسرے مقام پر ہوتا ہے۔
تم یہ نہ کہو کہ اس کا گھر شرقی جانب میں ہے بلکہ تمام نجد عامریہ کا گھر ہے۔
اس کے بعد متصلاً صاحب روح المعانی فرماتے ہیں
وھذا امر مقرر عند السادۃ
الصوفیۃ مشہور فیما بینہم وہو غیر طی المسافۃ و انکار من ینکر کلامنہا علیہم مکابرۃ
لا تصدر الامن جاہل او معاند و عجب العلامۃ التفتازانی من بعض فقہاء اہل السنۃ ای
کا بن مقاتل حیث حکم بالکفر علیٰ معتقد ماروی عن ابراہیم بن ادہم قدس سرہ انہم رأوہ
بالبصرۃ یوم الترویۃ ورٔوی ذلک الیوم بمکۃ ومبناہ زعم ان ذلک من جنس المعجزات
الکبار وہو مما لا یثبت کرامۃ لو لی وانت تعلم ان المعتمد عندنا جواز ثبوت الکرامۃ
للولی مطلقا الا فیما یثبت بالدلیل عدم امکانہ کالاتیان بسورۃ من احدیٰ سورۃ القرآن
وقد اثبت غیرواحد تمثل النفس وتطورہا لنبینا ا بعد الوفاۃ وادعی انہ علیہ الصلٰوۃ
والسلام قدیری فی عدۃ مواضع فی وقت واحد مع کونہ فی قبرہ الشریف یصلی و قد تقدم
الکلام مستوفی فی ذٰلک وصح انہ ا رأی موسیٰ علیہ السلام یصلی فی قبرہٖ عند الکثیب
الاحمر راٰہ فی السماء وجری بینہما جری فی امر الصلوات المفروضۃ و کونہ علیہ
الصلٰوۃ والسلام عرج الی السماء بجسدہ الذی کان فی القبر بعدان راٰہ النبی ﷺ ممالم
یقلہ احد جزما والقول بہٖ احتمال بعید وقد راٰی ا لیلۃ اسری بہ جماعۃ من الانبیاء و
غیر موسیٰ علیہ السلام فی السمٰوٰت مع ان قبورہم فی الارض ولم یقل احد انہم نقلوا
منہا الیہا علیٰ قیاس ما سمعت اٰنفاً ولیس ذٰلک مما ادی الحکمیون استحالۃ من شغل
النفس الواحدۃ اکثر من بدن واحد بل ہو امر ورآئہ کما لا یخفیٰ علی من نور اللّٰہ
تعالیٰ بصیرتہ۔ انتہیٰ (روح المعانی پ
۲۳ ص ۱۳ مطبوعہ مصر)
اور یہ امر ساداتِ صوفیہ کے نزدیک ثابت شدہ اور ان کے درمیان مشہور ہے اور وہ طے
مسافت کے علاوہ ہے اور جو شخص ان دونوں کمالوں (طے مسافت اور بیک وقت مقامات متعددہ
میں ان کا موجود ہونا) کا منکر ہے اس کا انکار مکابرہ ہے جو سوائے جاہل یا معاند کے
کسی سے صادر نہیں ہو سکتا اور علامہ سعد الدین تفتازانی نے ابن مقاتل جیسے بعض
فقہاء اہل سنت پر سخت تعجب کا اظہار کیا ہے اس حیثیت سے کہ انہوں نے ایسے شخص پر
کفر کا حکم لگایا جو ابراہیم بن ادہم قدس سرہ کے متعلق اس روایت کا معتقد ہے کہ
لوگوں نے انہیں ذی الحج کی آٹھویں تاریخ کو بصرہ میں دیکھا اور وہ اسی دن مکہ میں
بھی دیکھے گئے اور ان کے حکم کفر کا مدار اس امر پر ہے کہ انہوں نے یہ گمان کر لیا
کہ ایک وقت میں متعدد مقامات پر موجود ہونا انبیاء علیہم السلام کے بڑے معجزات میں
سے ہے اور یہ ان امور میں سے ہے جو ولی کے لئے بطور کرامت ثابت نہیں ہو سکتے
حالانکہ تو جانتا ہے کہ ہم اہل سنت کے نزدیک معتبر مسلک یہ ہے کہ نبی کا معجزہ ولی
کے لئے بطور کرامت ثابت ہو سکتا ہے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، سوائے اس معجزہ کے جس
کا صدور ولی کے حق میں بطور کرامت ناممکن ہو دلیل شرعی سے ثابت ہو جائے جس طرح قرآن
مجید کی سورتوں میں سے کسی سورت کی مثل لے آنا (اس کے سوا باقی تمام معجزات خواہ وہ
کیسے ہی عظیم الشان ہوں اولیاء اللہ کے لئے بطور کرامت ان کا صدور و ظہور ہو سکتا
ہے) اور بکثرت علماء محققین نے حضور ﷺ کے لئے وفات شریف کے بعد آپ کی روح اقدس کے
متمثل ہو کر ظہور فرمانے کو ثابت کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضور ﷺ بسا اوقات
ایک ہی وقت میں بہت سی جگہوں پر دیکھے جاتے ہیں حالانکہ حضور ﷺ اپنی قبر شریف میں
نماز پڑھ رہے ہیں اور اس مسئلہ میں اس سے پہلے نہایت تفصیل سے کلام گزر چکا ہے اور
یہ بھی صحیح ہے کہ حضور ﷺ نے سرخ رنگ کے ٹیلے کے نزدیک موسیٰ علیہ السلام کو ان کی
قبر شریف میں کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے انہیں
آسمان میں بھی دیکھا اور سب جانتے ہیں کہ فرض نمازوں کے بارے میں حضور ﷺ اور حضرت
موسیٰ علیہ السلام کے درمیان کیا گفتگو ہوئی اور نبی ﷺ کو دیکھنے کے بعد موسیٰ علیہ
السلام کا اپنے اسی جسم کے ساتھ جو قبر شریف میں تھا، آسمانوں پر لے جایا جانا
یقینا ایسی بات ہے کہ آج تک کسی نے نہیں کی اور ویسے بھی یہ قول احتمال بعید ہے
(پھر یہ امر بھی قابل غور ہے) کہ نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات موسیٰ علیہ السلام کے
علاوہ اور انبیاء علیہم السلام کو بھی آسمانوں پر دیکھا، باوجود اس کے کہ ان کی
قبور مقدسہ زمین میں ہیں اور یہ بات بھی آج تک کسی نے نہیں کہی کہ وہ انبیاء کرام
علیہم السلام اپنی قبروں سے آسمانوں کی طرف منتقل کر دئیے گئے تھے جیسا کہ تم ابھی
سن چکے ہو۔ (ساتھ ہی یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ) بیک وقت متعدد مقامات میں ان
مقدس حضرات کا موجود ہونا اس قبیل سے نہیں ہے جس کے محال ہونے کا فلسفیوں نے دعویٰ
کیا ہے کہ ایک روح کا شغل ایک بدن سے زائد بدنوں کے ساتھ نا ممکن ہے۔ ان حضرات کا
یہ کمال فلاسفہ کی محال قرار دی ہوئی صورت کے علاوہ اور اس سے بہت بلند ہے جیسا کہ
یہ حقیقت ان لوگوں پر ظاہر ہے جن کی بصیرت کو اللہ تعالیٰ نے روشن فرما دیا۔
مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی نے روح المعانی کی یہ عبارت فتح الملہم میں نقل کی ہے
اور یہ تسلیم کیا ہے کہ حضور ﷺ باوجود اپنی قبر شریف میں رونق افروز ہونے کے بیک
وقت متعدد مقامات پر دیکھے جاتے ہیں۔
ملاحظہ فرمایئے فتح الملہم جلد ۱ ص ۳۰۵ مطبوعہ مدینہ پریس بجنور۔
دیکھئے دیوبندی علماء بھی رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی حضور کے متعدد مقامات پر
تشریف فرما ہونے کے قائل ہیں۔
فیض الباری جزء اول مطبوعہ قاہرہ ص ۳۰۴ پر انور شاہ صاحب کشمیری فرماتے ہیں
ویمکن عندی رؤیتہ ا یقظۃ لمن
رزقہ اللّٰہ سبحانہ کما نقل عن السیوطی اثنین و عشرین مرۃ وسألہ عن احادیث ثم صححہا
بعد تصحیحہ ا
اور میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا جاگتے ہوئے بیداری کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کو
دیکھنا ممکن ہے، جس کو اللہ تعالیٰ یہ نعمت عطا فرمائے۔ جیسا کہ سیوطی رحمۃ اللہ
علیہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو بائیس مرتبہ دیکھا ہے اور حضور ﷺ سے
بعض احادیث کے متعلق سوال کیا پھر حضور ﷺکی تصحیح کے بعد سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے
ان کو صحیح کر لیا۔
اس کے بعد انور شاہ صاحب نے امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں
نے بھی حضور ﷺ کو دیکھا اور حضور کے سامنے اپنے آٹھ رفقاء کی معیت میں بخاری شریف
پڑھی۔ یہ لکھ کر انور شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ
فالرؤیۃ متحققۃ و انکارہا جہل
یعنی حضور ﷺ کو بیداری میں دیکھنا متحقق اور ثابت ہے اور اس کا انکار جہل صریح ہے۔