کنز العمال
اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اس میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ اعرابی نے حضور کو ’’غیب دان‘‘
کہا اور حضور ﷺ نے اس پر انکار فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں تو رفیع المنزلۃ ہوں۔ یہ
وہی حدیث ہے جس کا ذکر بار بار آچکا ہے اور اعرابی نے
یَا خَارِجُ مِنْ مَکَّۃَ اِلَی
الْمَدِیْنَۃِکے معنیٰ مراد لے کر
حضور ﷺ کو ہمزہ کے ساتھ ’’نبیٔ
اللّٰہ‘‘ کہا تھا۔ اس معنیٰ کے مراد
لینے کی بناء پر حضور ﷺ نے اس پر انکار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ میں ہمزہ
کے ساتھ ’’نبیٔ اللّٰہ‘‘
نہیں بلکہ میں ہمزہ کے بغیر
’’نبیّ اللّٰہ‘‘ ہوں۔
اگر معاند نے طنزاً ایسا لکھا ہے تو تب بھی واقعہ کے اعتبار سے یقینا یہ بہتان ہے۔
کیوں کہ اس کا یہ لکھنا قطعاً خلافِ واقعہ ہے۔
معاند کو معلوم ہونا چاہئے کہ آج تک کسی اہل حق نے نبی کا ترجمہ ’’غیب دان‘‘ کے لفظ
سے نہیں کیا۔ نبی اس مقدس انسان کو کہتے ہیں جو مبعوث من اللہ ہو کر غیب کی خبریں
دینے والا بلند مرتبہ ہو۔
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لفظ نبی کا ترجمہ فرماتے ہوئے جہاں بھی
غیب کی خبر دینے والا ارقام فرمایا توان ہی مرادی معنیٰ کے لحاظ سے ہے اور اس معنیٰ
کے پیش نظر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ترجمہ یقینا صحیح ہے۔ اگرچہ ہم نے اپنے
ترجمہ میں محض اختصار کے پیش نظر یہ ترجمہ نہیں لکھا لیکن قرآن مجید میں جہاں بھی
لفظ نبی آیا ہے، ہمارے نزدیک اس کے مرادی معنیٰ یہی ہیں۔ جن کی صحت پر ہماری منقولہ
عبارات اور ان کے علاوہ قرآنی آیات شاہد عادل ہیں۔
۳۳: ش تعالیٰ نے قرآن مجید میںارشاد فرمایا
ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآئِ
الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ۔
یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی فرما رہے ہیں۔
۳۴: اسی طرح تِلْکَ مِنْ
اَنْبَآئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَا اِلَیْکَ
یعنی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں۔
نیز ارشاد فرمایا
۳۵: نَبِیّئْ عِبَادِیْ اَنِّیْ
اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُo
میرے بندوں کو خبر دے دیجئے کہ میں ہی
غفُور رّحیم
ہوں۔
معاند نے ہماری تمام عباراتِ منقولہ اور ان آیاتِ قرآنیہ کو نظر انداز کر کے کہہ
دیا کہ اصطلاحی نبی نبائٌ
سے ماخوذ نہیں اور نبی اصطلاحی کے
معنیٰ مخبر عن اللّٰہ نہیں بلکہ اس کے معنیٰ رفیع المنزلۃ ہیں اور یہ نہ سوچا کہ
نبی کا رفیع المنزلۃ ہونا اور اس کا ایسا بلند مرتبہ والا ہونا کہ اس کے علاوہ اور
کوئی انسان اس کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکے اسی امر پر مبنی ہے کہ وہ مبعوث من اللہ ہو
کر مخبر عن اللّٰہ ہے۔ اسی لحاظ سے نبی ایسا رفیع المنزلۃ ہے کہ کوئی غیر نبی اس کے
مقام کو نہیں پا سکتا۔ ورنہ محض مرتبہ کے اعتبار سے بلند ہونا نبی کا خاصہ نہیں غیر
نبی کے لئے بھی رفعت ِ منزلت قرآنِ مجید سے ثابت ہے۔
۳۶: اللہ تعالیٰ نے فرمایا
یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ
یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے مومنین، کاملین اور اہل علم کے درجے بلند فرمائے گا اور
اس میں شک نہیں کہ مومنین کاملین اور اہل علم اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا و آخرت میں
بلند درجے رکھتے ہیں۔ دیکھئے صالحین اور اولیائے کرام کے درجے عامۃ المسلمین سے
بلند ہیں اور شہید کا مرتبہ بھی غیر شہید سے بلند ہے، صدیقین کے مراتب اور درجات
شہداء سے بھی بلند ہیں اور رفعت منزلت ان سب کے لئے ثابت ہے لیکن نبی کی رفعت ِ
منزلت کو غیر نبی نہیں پا سکتا۔ اسی لئے ہم نے بار بار تنبیہ کی ہے کہ نبی کے مخبر
عن اللّٰہ اور رفیع المنزلۃ ہونے میں کوئی تعارض نہیں بلکہ دونوں کا مفہوم ایک ہی
ہے۔
مگر افسوس کہ معاند نے نبی کے مخبر عن اللّٰہ ہونے کی نفی کرتے ہوئے اسے صرف رفیع
المنزلۃ قرار دے کر گویا اس کی رفعت منزلت کی بنیاد ہی کو ختم کر دیا۔
معاند نے نبی کے مخبر عن اللّٰہ ہونے کی نفی بڑے شد و مد سے کی ہے اور اس نفی پر
حدیث اعرابی کا سہارا لیا ہے اور اس حدیث کے بارے میں مستدرک سے امام حاکم کا یہ
قول بھی نقل کیا ہے کہ ’’صحیح علیٰ شرط الشیخین‘‘ لیکن اپنے اس کلام میں ہر جگہ
جہالت اور خیانت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے بارے میں ہم تفسیر قرطبی سے نقل کر چکے
ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ صاحب نبراس کی عبارت بھی ہم نے نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ
ہے کہ اگرچہ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور علیٰ شرط الشیخین اسے صحیح لکھا
لیکن سند کے اعتبار سے یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کے راویوں میں ایک راوی حمران ہے جو
غلاۃِ شیعہ سے ہے۔
۳۷: علاوہ ازیں امام زبیدی صاحب ِ تاج العروس نے اسی حدیث اعرابی کے بارے میں
فرمایا
وَیَنْبَغِی م اَنْ تَکُوْنَ
رِوَایَۃُ اِنْکَارِہٖ غَیْرَ صَحِیْحَۃٍ عَنْہُ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لِاَنَّ بَعْضَ شُعَرَائِہٖ وَھُوَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسِ السُّلَمِیُّ قَالَ۔
یَا خَاتَمَ النُّبَأئِ وَلَمْ یَرِدْ عَنْہُ اِنْکَارُہٗ لِذَالِکَ
یعنی مناسب یہ ہے کہ اعرابی کی حدیث جس میں نبی بالہمزہ کا انکار رسول اللہ ﷺ سے
مروی ہے اسے غیر صحیح قرار دیا جائے۔ اس لئے کہ حضور ﷺ کے شعراء میں سے عباس بن
مرداس سلمی نے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے کہا
یَا خَاتَمَ النُّبَأئِ
اور حضور ﷺ سے اس کا انکار وارد نہیں ہوا (جب کہ
نُبَأئَ نبیٌّ
کی جمع نہیں بلکہ نبیٌٔ بالہمزہ کی جمع ہے)
اس سے کچھ پہلے یہی امام زبیدی اس روایت کے بارے میں فرما چکے ہیں کہ
۳۸: اس حدیث کے رواۃ میں حسین جعفی ہے جو شیخین کی شرط پر نہیں۔
وَلِھٰذَا ضَعَّفَہٗ جَمَاعَۃٌ
مِّنَ الْقُرَّآئِ وَالْمُحَدِّثِیْنَ وَلَہٗ طَرِیْقٌ اٰخَرُ مُنْقَطِعٌ۔
انتہیٰ
یعنی اسی لئے قراء و محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس حدیث
کا ایک دوسرا طریق بھی ہے جو منقطع ہے۔
(تاج العروس جلد ۱ ص ۱۲۲)
رہا یہ امر کہ امام حاکم نے اس کو صحیح علیٰ شرط الشیخین کہا تو یہ امام حاکم کا
تساہل ہے۔
۳۹: امام نووی تقریب میں فرماتے ہیں
وَاِعْتَنَی الْحَاکِمُ
بِضَبْطِ الزَّائِدِ عَلَیْہِمَا وَھُوَ مُتَسَاھِلٌ
یعنی امام حاکم نے مستدرک میں کوشش کی کہ وہ شرطِ شیخین پر زائد حدیثیں ضبط کریں
اور وہ حدیث کی تصحیح میں متساہل ہیں۔
۴۰: امام سیوطی نے اس کے تحت تدریب میں فرمایا
قَالَ شَیْخُ الْاِسْلَامِ
وَاِنَّمَا وَقَعَ لِلْحَاکِمِ التَّسَاہُلُ لِاَنَّہٗ سَوَّدَ الْکِتَابَ
لِیُنَقِّحَہٗ فَاَعْجَلَتْہُ الْمَنِیَّۃُ۔ ۱ھ
(تدریب مع التقریب ص ۵۲)
یعنی شیخ الاسلام (حافظ ابن حجر عسقلانی) نے کہا کہ حاکم کے تساہل کی وجہ یہ ہے کہ
انہوں نے اپنی کتاب مستدرک کا مسوّدہ تیار کیا تاکہ اس کی تنقیح کریں لیکن اس سے
پہلے ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔
معاند نے ان تمام عبارات و تصریحاتِ علماء کو نظر انداز کر کے اپنی جہالت اور خیانت
کا مظاہرہ کیا۔ ’’والی اللّٰہ
المشتکیٰ‘‘
بالفرض حدیث ِ اعرابی کو تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی وہ معاند کا سہارا نہیں بنتی۔
اس لئے کہ ہم علماء کی عبارات نقل کر کے بار بار تنبیہہ کر چکے ہیں کہ اعرابی کے یا
نبیٔ اللّٰہ
ہمزہ کے ساتھ کہنے پر اس لئے حضور ﷺ نے انکار نہیں فرمایا کہ اس نے مخبر عن اللّٰہ
کے معنیٰ مراد لے کر حضور ﷺ کو ہمزہ کے ساتھ
نبیٔ اللّٰہ
کہا تھا بلکہ صرف اس بناء پر حضور ﷺ نے انکار فرمایا کہ اس نے
یَا خَارِجُ مِنْ مَکَّۃَ اِلَی
الْمَدِیْنَۃِ کے معنیٰ مراد لے کر
حضور ﷺ کو ہمزہ کے ساتھ یا نبیٔ
اللّٰہ کہا تھا۔
بعض علماء نے کہا کہ حضور کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ لفظ ِ
نبیٔ
بالہمزہ لغت ِ قریش سے نہ تھا۔
۴۱: یہ محض توہم ہے۔ امام زبیدی تاج العروس میں فرماتے ہیں
وَالَّذِیْ صَرَّحَ بِہِ
الْجَوْھَرِیُّ وَالصَّاغَانِیْ بِاَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِنَّمَا اَنْکَرَہٗ لِاَنَّہٗ اَرَادَ یَا مَنْ خَرَجَ مِنْ
مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ لَا لِکَوْنِہٖ لَمْ یَکُنْ مِنْ لُغَتِہٖ کَمَا
تَوَھَّمُوْا وَیُؤَیِّدُہٗ قَوْلُہٗ تَعَالیٰ لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا فَاِنَّہُمْ
اِنَّمَا نُھُوْا عَنْ ذَالِکَ لِاَنَّ الْیَہُوْدَ کَانُوْا یَقْصُدُوْنَ
اِسْتِعْمَالَہٗ مِنَ الرَّعُوْنَۃِ لَا مِنَ الرِّعَایَۃِ قَالَہٗ شَیْخُنَا۔
۱ھ
یعنی حدیث اعرابی میں ہمزہ کے ساتھ نبیٔ اللہ کہنے پر حضور کا انکار جوہری اور
صاغانی کی تصریح کے مطابق صرف اس لئے تھا کہ اعرابی نے
یَا مَنْ خَرَجَ مِنْ مَکَّۃَ اِلَی
الْمَدِیْنَۃِکا معنیٰ مراد لے کر صرف
’’خارج ٌ‘‘ کے معنیٰ میں حضورکو
نبیٔ اللّٰہ
کہا تھا۔ حضور کا انکار اس بناء پر نہ تھا کہ لفظ نبیٔ بالہمزہ حضور کی لغت سے نہیں
تھا۔ جیسا کہ لوگوں نے وہم کیا۔ اس تصریح کی تائید اللہ تعالیٰ کے قول
لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا
سے ہوتی ہے۔ کیوں کہ راعنا کہنے کی نہی صرف
اس وجہ سے تھی کہ یہود رعایت کی بجائے رعونت سے مشتق کر کے حضور کو راعنا کہتے تھے۔
یہ بات ہمارے شیخ نے فرمائی۔ ۱ھ (تاج العروس ج ۱ ص ۱۲۲)
اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ اگر حدیث ِ اعرابی کو تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی وہ
معاند کا سہارا نہیں بنتی۔ کیوں کہ جس معنیٰ پر حضور ﷺ نے انکار فرمایا اس معنیٰ
میں لفظِ نبی قرآن و حدیث میں مستعمل نہیں ہوا۔ آخر میں معاند کا یہ کہنا کہ جوہری
نے اپنی صحاح میں نبی کو فعیل بمعنیٰ مفعول نہ کہ بمعنیٰ فاعل فرما کر ہماری تائید
فرمائی، عجیب مضحکہ خیز ہے۔
جب اس لفظِ نبیٔ کو غیر جید غیر فصیح اور لغت ردی کہہ کر اسے ساقط کر دیا تو اب
جوہری کی عبارت سے اسے کیا فائدہ پہنچا؟ پھر یہ کہ جوہری نے فعیل بمعنیٰ مفعول ضرور
کہا لیکن بمعنیٰ فاعل کی نفی نہیں کی اور دیگر ائمہ لغت کی تصریحات ہم اس سے پہلے
نقل کر چکے ہیں کہ انہوں نے بمعنیٰ فاعل بھی کہا جو معاند کے مسلک کی نفی صریح ہے۔
اس کے بعد ہم معاند کی ایک اور جہالت و خیانت کا پردہ بھی چاک کر دینا چاہتے ہیں،
جس کا مظاہرہ اس نے ہمزہ کے ساتھ لفظِ نبیٔ کی نفی کی تائید میں کیا ہے۔ کہتا ہے کہ
قرآن مجید میں نبی بلا ہمزہ آیا ہے۔ نبی ﷺ نے بھی نبی بلا ہمزہ فرمایا۔ حدیث کی بحث
تو ابھی تفصیل کے ساتھ قارئین کے سامنے آ چکی ہے۔ رہا یہ امر کہ صحائف قرآنیہ میں
نبی بلا ہمزہ آیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں صرف
مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن
آیا ہے۔ مَلِکِ یَوْمِ
الدِّیْن نہیں آیا۔ اسی طرح
خَاتَمَ النَّبِیِّیْن
آیا ہے خَاتِمَ النَّبِیِّیْن
نہیں آیا لیکن جب یہ ثابت ہو گیا کہ مَالِکِ اور مَلِکِ دونوں قرأتیں متواتر ہیں۔
نیز خَاتَم اور خَاتِم بھی ہر دو متواتر قرأتیں ہیں تو اس کے بعد محض اس بناء پر
کہ صحائف قرآنیہ میں صرف ایک قرأۃ لکھی ہے، دوسری متواتر قرأۃ کا انکار کسی اہل
علم بلکہ عام مسلمان کے نزدیک بھی جہالت کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔
ہم ثابت کر چکے ہیں کہ نبی بالہمزہ اور بلا ہمزہ دونوں متواتر قرأتیں ہے۔ ایسی
صورت میں معاند کا لفظ نبی بلاہمزہ کا انکار جہالت و خیانت نہیں تو کیا ہے؟
ہمارے اپنے مسلک کی تائید کے لئے اختصار کے ساتھ دلائل کا پیش کر دینا بھی کافی تھا
لیکن ائمہ مفسرین و محدثین، علماء لغت ِ قرآن و حدیث و متکلمین اور ائمہ لغت عرب کی
ان تفصیلی عبارات کو محض اس لئے نقل کیا گیا ہے کہ معاند کی خیانت واضح ہو کر
قارئین کرام کے سامنے آ جائے۔
ہماری منقولہ عبارات کو پڑھنے کے بعد قارئین کرام پر یہ حقیقت واضح ہو گئی ہو گی کہ
ہر جگہ ہماری تائیدی عبارات پہلے مذکور ہیں۔ جنہیں معاند نے ازروئے خیانت نقل ہی
نہیں کیا۔ صرف قولِ مؤخر کو اپنی تائید میں سمجھ کر نقل کر دیا جو فی الواقع اس کے
مفید مطلب نہیں۔ جیسا کہ ہم تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں۔
معاند نے اپنی ساری قوت اس غلط نظریہ کو ثابت کرنے میں صرف کر دی کہ اصطلاحی نبی
نبأٌسے ماخوذ نہیں او راصطلاحی نبی کے معنیٰ خبر دینے والا نہیں بلکہ اس کے معنیٰ
صرف رفیع المنزلۃ ہیں۔
ہم نے دلائل کی روشنی میں ثابت کر دیا کہ لفظ ’’نبی‘‘ کے اصطلاحی معنیٰ مبعوث من
اللّٰہ ہو کر ’’مُخْبَرْ‘‘
یا ’’مُخْبِرْ‘‘ عَنِ اللّٰہ
ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر پانے والا یا خبر دینے والا اور ا س کا رفیع
المنزلۃ ہونا اسی امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو کر خبر پانا یا
خبر دینا صرف نبی کی شان ہے۔ غیر نبی کا یہ مرتبہ نہیں۔ اس لئے علماء نے لفظ ِ نبی
کے اصطلاحی معنیٰ خبر پانے والا یا خبر دینے والا تحریر کئے ہیں۔ جیسا کہ ہم تفصیلی
عبارات ابھی نقل کر چکے ہیں۔
خلاصۃ الکلام کے طور پر ناظرین کرام معاند کے تینوں دعاوی ذہن نشین فرما لیں۔
ایک (۱) یہ کہ ’’نبی‘‘ ’’نبأٌ‘‘
سے مشتق نہیں اور اس کے معنی ’’خبر دینے والا‘‘ ہر گز نہیں بلکہ وہ
’’نبوۃٌ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنیٰ
ہیں ’’بلندی‘‘ لہٰذا ’’نبی‘‘ کے معنی ہیں ’’بلند رتبہ‘‘ ۔
دوسر(۲)ا یہ کہ لفظ ’’نبی‘‘ ہمزہ کے ساتھ قرآن مجید میں نہیں آیا۔
تیسرا (۳) یہ کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کو ہمزہ کے ساتھ
نبیٔ اللہ
کہا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ہمزہ کے ساتھ
’’نبیٔ اللّٰہ‘‘
نہیں بلکہ بغیر ہمزہ کے ’’نبیّ
اللّٰہ‘‘ ہوں۔
ہم نے اس کے تینوں دعوؤں کو دلائل کے ساتھ رد کر دیا اور ثابت کر دیا کہ (۱) لفظ
’’نَبْوَۃْ‘‘
خود ’’اِنْبَأ‘‘
سے ماخوذ ہے اور لفظ ’’نبی‘‘ کا ماخذ ’’نبأٌ‘‘ ہے۔ اور ’’نبی‘‘ کے معنی ہیں خبر
دیا ہوا اور ’’خبر دینے والا‘‘ اور اس کا بلند رتبہ ہونا اسی لئے ہے کہ وہ اللہ
تعالیٰ کی طرف سے ’’مُخْبَرْ‘‘
اور ’’مُخْبِرْ‘‘
ہوتا ہے۔ (۲) اور ہم نے اچھی طرح واضح کر دیا کہ قرآن مجید کی قرأت متواترہ میں
ہمزہ کے ساتھ نبیٌٔ وارد ہے۔ (۳) ہم نے اس حقیقت کو بھی بے نقاب کر دیا کہ اعرابی
والی وہ روایت قابل اعتماد نہیں۔
اس کے بعد ہم وہابیوں، دیوبندیوں کے مقتداء اور امام ابن تیمیہ کی وہ عبارات نقل
کرتے ہیں جنہوں نے معاند کے ان دعووں کو
ھَبَأً مَّنْثُوْرًا
کر کے رکھ دیا اور معاند کے لئے ذلت و خواری کے سوا کچھ نہ چھوڑا۔ ملاحظہ فرمائیے
معاند کے امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں۔ (۱)
والنبوۃ مشتقۃ من الانباء والنبی فعیل و فعیل قد یکون بمعنی فاعل ای مُنْبِیٍٔ
وبمعنی مفعول ای مُنْبَیٌٔ وھما ھنا متلازمان
(کتاب النبواۃ طبع بیروت ص ۳۳۳) اور
’’نَبْوَۃْ‘‘ ’’اِنْبَاء‘‘
سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ’’خبر دینا‘‘ اور ’’نبی‘‘ فعیل کے وزن پر ہے اور فعیل
کبھی اسم فاعل کے معنی میں آیا ہے یعنی ’’خبر دینے والا‘‘ اور کبھی اسم مفعول کے
معنی میں یعنی ’’خبر دیا ہوا‘‘ اور یہاں یہ دونوں آپس میں لازم وملزوم ہیں یعنی خبر
دینے والا ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دیا ہوا ہو۔ آگے چل
کر لکھتے ہیں (۲) وھو من النبأ
واصلہ الہمزۃ وقد قرئ بہٖ وھی قرأۃ نافع یقرأ النبیٔ لکن کثیر استعمالہ لینت
ہمزتہ کما فعل مثل ذلک فی الذریۃ وفی البریۃ، وقد قیل ھو من النَّبْوَۃِ وھو العلو
فمعنی النبی المعلی الرفیع المنزلۃ والتحقیق ان ھٰذا المعنی داخل فی الاول فمن
اَنْبَائَ ہُ اللّٰہُ وجعلہٗ مُنْبِأً عنہ فلا یکون الارفیع القدر علیا
(کتاب النبواۃ ص ۳۳۶) ’’نبی‘‘ ’’نبأٌ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ اس کی اصل ہمزہ ہے اور ہمزہ
کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے اور وہ نافع کی قرأۃ ہے جو اسے ہمزہ کے ساتھ ’’نَبِیْ
ٌٔ‘‘ پڑھتے ہیں لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے اس کے ہمزہ کو لین کے ساتھ یعنی
’’نَبِیْ ٌٔ‘‘کی
بجائے نبیٌّ پڑھا گیا جیسے
ذُرِّیَّۃ ٌ ا ور
بَرِیَّۃ کہ دونوں ہمزہ کی بجائے یا
کے ساتھ پڑھے گئے۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظ ’’نبی‘‘ نبوۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں
’’بلندی‘‘ ایسی صورت میں ’’نبی‘‘ کے معنی ہیں ’’اونچا اور بلند رتبہ‘‘ اور تحقیق یہ
ہے کہ یہ معنی پہلے معنی میں داخل ہیں کیونکہ جسے اللہ نے خبر دی اور اسے اپنی طرف
سے خبر دینے والا بنایا وہ وہی ہوتا ہے جو بلند رتبہ اور اونچا ہو۔
(کتاب النبوات طبع بیروت ص ۳۳۶)
(۳) پھر اعرابی کی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں۔
وما روی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلّم، انہ قال انا نبیُّ اللّٰہِ وَلست
نبیٔ اللّٰہ فما رأیت لہٗ اسنادًا لا مسنداً وَلَا مرسلاً ولا رأیت فی شیٔ من کتب
الحدیث ولا السیر المعروفۃ ومثل ھذا لا یعتمد علیہ
(کتاب النبواۃ لامام ابن تیمیہ طبع بیروت ص ۳۳۶۔ ۳۳۷)
اور نبی کریم ﷺ سے جو یہ روایت کی گئی کہ حضور ﷺ نے فرمایا (میں ہمزہ کے ساتھ) نبیٔ
نہیں بلکہ (بغیر ہمزہ کے) نبیُّ اللّٰہ ہوں میں نے اس کی کو ئی اسناد نہیں دیکھی۔
نہ مسند اور نہ مرسل اور نہ میں نے کتب حدیث میں سے کسی کتاب میں یہ حدیث دیکھی اور
نہ سیر معروفہ میں اس روایت کو میں نے دیکھا۔ اس جیسی روایت پر اعتماد نہیں کیا
جاسکتا۔ ناظرین کرام! یہی وہ ابن تیمیہ ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کل حدیث لا
یعرفہ ابن تیمیہ فھو لیس بحدیث یعنی جس حدیث کو ابن تیمیہ نہیں پہچانتے وہ حدیث
نہیں۔ آپ نے دیکھ لیا کہ معاند کے اسی امام ابن تیمیہ نے اس کے تینوں دعاوٰی کی
دھجیاں اڑا کر رکھ دیں اور ان کا ابطال کر کے ہماری تصدیق و توثیق کر دی۔ سچ ہے
’’الحق یعلوولا یعلی فللّٰہِ
الحجۃ البالغہ‘‘ اب اس بحث کے اختتام
پر ہم معاند کے قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی کی ایک فیصلہ کن
عبارت پیش کرتے ہیں
۴۲: معاند کے مولانا نانوتوی صاحب نے ’’تحذیر الناس‘‘ میں تحریر کیا
’’جیسے نبی کو نبی اس لئے کہتے ہیں کہ خبردار یا خبردار کرنے والا ہوتا ہے‘‘ صدیق
کو صدیق اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی عقل بجز قولِ صادق قبول نہیں کرتی۔ ۱ھ (تحذیر
الناس ص۵۔۶ مطبوعہ قاسمی پریس دیوبند)
مدعی! لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
اس عبارت کے بعد بھی معاند کا یہ کہنا کہ ’’اصطلاحی نبی کے معنی خبر دینے والا نہیں بلکہ اس کے معنیٰ رفیع المنزلۃ ہیں‘‘ خود اس کے اپنے قاسم العلوم والخیرات کی تکذیب نہیں تو کیا ہے؟ الحمد للہ! بانیٔ مدرسہ دیوبند نے اس کا سب کیا دھرا خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْاَبْصَارِ
سید احمد سعید کاظمی ۲۴؍
رمضان
المبارک ۱۴۰۵ ھ
۱۴ ؍ جون۱۹۸۵ء